اتوار، 13 جنوری، 2019

زندگی کا سفر

" زندگی کا سفر "  ڈاکٹر صابر حسین خان

سفر کسی بھی طرح کا ہو,آدمی کو تھکا دیتا ہے.اور اگر سفر مستقل ہے اور کسی مخصوص منزل کے تعین کے بنا ہو تو تھکن چار چاند لگا دیتا ہے. اور سونے پر سہاگا,سفر اگر کسی ذاتی غرض, ذاتی مطلب, ذاتی مفاد سے بالا ہو تو کبھی کبھی تمام تر افلاطونی اور آفاقی فلسفوں اور نظریوں کے باجود ہمیں ذہنی,جذباتی اور جسمانی سطح پر اتنا تھکا دیتا ہے کہ پھر چاہنے نہ چاہنے کے باجود ہمیں کچھ دیر کیلئے سفر کا سلسلہ روکنا پڑتا ہے.خودکو آرام اور سکون کے سپرد کرنا پڑتا ہے. رکنا پڑتا ہے. ٹہرنا پڑتا ہے. اور جو ایسا نہ کیا جائے تو پھر ہمارے اندر آہستہ آہستہ ایسی جسمانی ,ذہنی اور رویہ جاتی علامات پیدا ہونے لگتی ہیں جو نفسیاتی اصطلاح میں Burn out Syndrome کی شکل اختیار کر لیتی ہیں. اس سنڈروم سے بچنے اور خود کو بچانے کیلئے ہمیںRest اور Relaxation کی ضرورت پڑتی ہے.
صحیح وقت پر اگر گاڑی کا گرم انجن بند نہ کیا جائے اور اسے کچھ وقت کیلئے بند نہ رکھا جائے تو اچھی سے اچھی طاقتور انجن کی حامل گاڑی بھی ایک نان اسٹاپ لمبے سفر کے بعد جواب دے جاتی ہے. انسان کی مشینری بھی کام کے بعد آرام کی متقاض ہوتی ہے. لیکن ہم میں سے اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو چونکہ زندگی کے کسی بھی معاملے میں صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کرنے سے قاصر ہوتے ہیں. لہذا اایسے موقعوں پر بھی صحیح وقت پر درست اندازہ نہیں لگا پاتے کہ ہمیں اپنا سفر روک کر اپنے انجن کو ٹھنڈا کرنے کی ضرورت ہے. کب اپنی لالچ کے Accelerator پر سے پاوں ہٹا کر قناعت کے Brakes دبانے میں. کتنے کلو میٹر کے کاموں کو پورا کرنے کے بعد کتنی دیر کا رٹیسٹ لینا ہے.اپنے آپ کو کتنا Relief دینا ہے.
نتیجنا ڈیش بورڈ پر پہلے ریڈسگنل آتا ہے. پھر بیپ بیپ کی آواز آنا شروع ہو جاتی ہے اور پھر یکدم انجن جھٹکے لے لے کر روک جاتا ہے.دانا اور سمجھدار لوگ ریڈ سگنل پر ہی اپنی گاڑی اور اپنی زندگی کے سفر کو روک دیتے ہیں. اور جو نارمل سے بھی زیادہ دانا اور ہوشیار ہوتے ہیں, وہ ریڈ سگنل کے آنے سے پہلے ہی کسی سایہ دار مقام پر اپنی گاڑی روک کر نیچے اتر آتے ہیں. آرام کرتے ہیں. ماحول سے لطف اندوز ہوتے ہیں. ٹیونگ اور اورھالنگ کرتے ہیں. اپنا اور اپنی گاڑی اور اپنی زندگی کا Oil تبدیل کرتے ہیں. کاربوریڑ میں سے کچرا صاف کرتے ہیں. ضرورت ہو تو پلگ بھی بدل ڈالتے ہیں.پہیوں کی ہوا اور ریڈی ایٹر کا پانی چیک کرتے ہیں. اور ازسرنو تیاری کے بعد دوبارہ سفر پر نکل کھڑے ہوتے ہیں.
نہ کوئی سفر مستقل ہوتا ہے. نہ مستقل کیا جاسکتا ہے.وقفہ صحت کیلئے ضروری ہوتا ہے. نہ مستقل لکھا جاسکتا ہے.نہ مستقل پڑھا جاسکتا ہے. مستقل جاگتے رہنے سے جس طرح ذہنی توازن پلٹ جاتاہے.اور مناسب نیند نہ لینے سے اداسی اور چڑچڑاپن پیدا ہوتا ہے. اسی طرح کوئی کام مستقل کرتے رہنے سے ہمارا نروس سسٹم یا اعصابی نظام آہستہ آہستہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگتا ہے.قدرت نے چونکہ ہمارے اعصاب کو فطری طور پر بہت زیادہ طاقتور بنایا ہے تو شروع شروع میں ہمیں اس ٹوٹ پھوٹ کا علم نہیں ہو پاتا.بظاھر سب کچھ صحیح دکھائی دے رہا ہوتا ہے. سب کچھ صحیح چل رہا ہوتا ہے. اور ہم اطمینان اور سکون سے اپنے اپنے کاموں میں آگے بڑھنے اورExcellence پانے کیلئے 20-20گھنٹے لگے رہتے ہیں. عام طور پر ہمارے ان کاموں کا ننانوے فیصد حصہ اپنی مادی ترقی اور خوشحالی کے ذرائع اکٹھے کرنا ہوتا ہے. اور باقی ایک فیصد ان کاموں میں سہولت پیدا کرنے والے کاموں کو کرنا ہوتا ہے. اور باقی ایک فیصد ان کاموں میں سہولت پیدا کرنے والے کاموں کو کرنا ہوتا ہے. مثلا نہانا دھونا,صاف اور اچھے کپڑے خریدنا اور پہننا.جوتوں کو پالش کرنا,بال سنوارنا,شیو بنانا,کھانا اور سونا.بظاہر یہ کوئی بڑا عمل نہیں. دنیا کے سب ہی لوگ اس پیٹرن میں زندگی گزار رہے ہیں یا گزارنے پر مجبور ہیں. یہ سب روزانہ کے کام عموما ہماری فطرت ,ثانیہ بن جاتے ہیں. اور ہمیں اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ روز کے ان کاموں میں ہماری کتنی توانائی. کتنا وقت اور کتنے وسائل خرچ ہورہے ہیں. یہ سب کام ضروری ہوتے ہیں. لکین اکثر تعلقات پیدا کر ڈالتے ہیں کہ روزمرہ کے کاموں کی ایک وزنی گٹھرہی ہمارے سروں پر سوار رہتی ہے.اور ہمیں اپنا سفر اس اضافی بوجھ کے ساتھ طے کرنا پڑتا ہے.
بوجھ تو بوجھ ہوتا ہے.اود مستقل رہنے والا بوجھ ہمیں جلدی تھکا دیتا ہے.انسانی نفسیات ہے کہ ہمیں عام طور پر بہت سامنے کی اور روزانہ کے برتنے کی چیزیں باتیں نہ دکھائی دے جاتی ہیں نہ محسوس ہو پاتی ہیں. تو ہمیں اپنے سر پر رکھی غیر ضروری اضافی و نمائشی کاموں کی پوٹلی بھی نہیں دکھائی دے پاتی.ہم دائیں بائیں, آگے پیچھے,اوپر نیچے ہر طرف اپنی تھکان کا سبب ڈھونڈتے رہتے ہیں. مگر اصل وجہ تک نہیں پہنچ پاتے.
زندگی کے سفر میں جگہ جگہ Break لے کر, رک رک کر اپنے اندر اور باہر جھانکنا چاہیے.باریک بینی سے, سب سے پہلے اپنے وجود, .اپنی سوچ, اپنے خیالات, اپنے احساسات کو کھنگالنا چاہیے کہ ہم نے اپنے اندر کسی چھپر کس کونے, کس گوشے میں ایسا کیا کچھ چھپا رکھا ہے جو نہ صرف ہمارے لئیے غیر ضروری اور اضافی ہے بلکہ وزنی اور بے ہنگم بھی ہے.اور جس کے بوجھ تلے ہم چلتے چلتے, اپنے کام کرتے کرتے ذرا جلد تھک جاتے ہیں. اور ہمیں سانس لینے کیلئے رکنا پڑتا ہے.
اصلی اور دیرپا صفائی ,اندر کی صفائی ہوتی ہے.یہ ذرا زیادہ وقت طلب ہوتی ہے اور اسے کرنے میں ذرا ذیادہ مشقت کرنا پڑتی ہے. ذرا ذیادہ تکلیف برداشت کرنا پڑتی ہے. ہم انجانے میں,اپنی معصومیت میں,نادانی میں ایسی بھاری بھرکم سوچیں,خواہش اور جذبے پال لیتے ہیں جو نہ تو ہماری شخصیت اور نفسیات سے Compatableہوتے ہیں.نہ کسی طرح ہماری روح سےMatching میں آتے ہیں.ہماری حقیقی اور عملی زندگی سے Synchronizedہو پاتے ہیں.  اور نہ ہی ہمارے لئیے فائدہ مند ہوتے ہیں.
یہ سب خیال,سوچیں اور جذبے اور ان سے منسلک وسوسے, خدشے,مایوسیاں,امیدیں اور ان کے حصول کی کوشیشیں ناکامیاں,کامیابیاں  سب کے سب نہ صرف ہمارے لاشعور کے تہہ خانے میں Dump ہوتے رہتے ہیں. بلکہ وہاں پڑے پڑے انڈے بچے بھی دیتے رہتے ہیں اور ہماری شعوری توجہ کی نموپاکر پھلتے پھولتے بھی رہتے ہیں. مناسب وقت اور پھر ایک خاص مدت پر اگر ان کی کانٹ چھانٹ نہ کی جائے. Editing نہ کی جائے.Antivirus نہ چلایا جائے تو ہماری زندگی کا سفر بار بار رکنے لگتا ہے.
وقتا فوقتا ازخود رک کر,تھم کر اپنے ذہن کے Android سسٹم کی صفائی نہ کی جائےتو اسمارٹ فون کی طرح ہماری زندگی کا سسٹم بھی Hang ہونے لگتا ہے. عقل مندی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے کسی بھی اندرونی یا بیرونی سسٹم کو Hang نہ ہونے دیں.Corrupt نہ ہونے دیں. اپنے موبائل فون کی طرح. مہنگے سے مہنگا فون بھی اگر مستقل طور پر Periodically صاف نہیں کیا جائے گا تو چلتے چلتے وہ اچانک بند ہونے لگے گا اور اپنی Functionality کھونے لگے گا. اس کا Ram,اس کا Rom اس کے اندر پڑی سب Application اور Software آہستہ آہستہ غیر ضروری فائلز اور Memory سے بھرنے لگیں گے.
ایک عام کار,ایک عام فون کا جب یہ حال ہوتا ہے تو ذرا سوچئے کائنات کی سب سے اعلی سب سے ارفع مشین یعنی انسان کا کیا خیال ہوگا.اگر وہ اپنے اندر موجود فطری Softwares اور پھر مزید ہزاروں خواہش یا مجبوری کے تحت ڈالی گئی Application کو وقتا فوقتا صاف نہیں کرے گا.Anti malware سروس Activate نہیں کرے گا. تو کسیے اور کیونکر اس کے تمام اندرونی اور بیرونی نظام اور دیگر کام خوش اسلوبی سے چل سکیں گے.
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنی چیزوں کی دیکھ بھال اور حفاظت کا توانتظام کرتےرہتے ہیں.لکین خود اپنی دیکھ بھال, اپنی نگہداشت, اپنی صفائی ستھرائی, اپنی Tuning, اپنی Overhavling کا نہ کچھ سوچتے ہیں اور نہ اس کیلئے کوئی کوشش کرتے ہیں.
کوشش کیجیے کہ اس سے پہلے ہمارا سفر, ہماری زندگی کا سفر اچانک سے رک جائے .ہمارا اندرونی اور بیرونی نظام اچانک سے تھم جائے. ہمارے سوفٹوئیرز,ہماری اپیلی کشینز اچانک سے کرپٹ ہو جائیں. ہم کو ایسا کوئی اختیاری نظام Adopt کرلینا چاہیے جس کے تحت ہم ڈیش بورڈ پر ریڈ سگنل آنے سے پہلے اپنے اندر,اپنے ذہن,اپنے قلب,اپنی روح کی صفائی کرتے رہیں. ہر طرح کے اضافی اور غیر ضروری بوجھ سے نجات پاتے رہیں.
تبھی ہم ہلکے پھلکے رہ کر اپنی زندگی کا سفر, آرام و سکون سے طے کر سکتے ہیں. کہ بہترین سفر کم سے کم سامان کے ساتھ ہی ہوتا ہے.

پیر، 24 دسمبر، 2018

" وقت کم, مقابلہ سخت " ڈاکٹر صابر حسین خان

" وقت کم مقابلہ سخت "

دعاگو . ڈاکٹر صابر حسین خان

اتنے مہینوں سے میرے سامنے بابا محمد یحیحی خان کی 1100 صفحات پر مشتمل " لے بابا ابابیل " رکھی ہوئی ہے. دو بار شروع کرنے کی ہمت کر چکا ہوں. مگر مکمل فراغت کے باوجود چار چھ بار پڑھنے کے بعد رکھ دی ہے. سوچتا ہوں, ذرا اور سکون مل جائے تو پڑھوں گا. نہ اور سکون مل پاتا ہے, نہ کتاب مکمل ہو پاتی ہے. یہ بات نہیں کہ طبیعت ضغیم کتابوں کے مطالعے سے گھبراتی ہے. بابا محمد یحیحی خان کی گزشتہ 3 کتابیں بھی کم بھاری بھرکم نہیں ہیں. لیکن جن دنوں میں, جس موسم میں, وہ کتابیں سامنے آئیں. وہ وقت انتہائی مصروفیات کے باوجود شاید اتنا سخت اور سنجیدہ نہیں تھا. تبھی وہ تینوں یکے بعد دیگرے مھینے ڈیڑھ مھینے میں ختم کر لی گئیں. مگر اب لگتا ہے کہ وقت کم ہے اور مقابلہ سخت. وقت اور فراغت ہونے کے باوجود. اتنی موٹی کتاب میں جذب ہونے سے گھبراہٹ ہوتی ہے.
ایسی کیفیت محض مجھ اکیلے کی نہیں ہے. ہم سب اول تو مطالعے سے اور دوئم لگن اور توجہ سے پڑھنے اور بہت زیادہ پڑھنے سے اب کترانے لگے ہیں. ہر شے جدید سے جدید تر ہوتی جا رہی ہے اور اس کا سب سے زیادہ اثر ہمارے وقت پر پڑا ہے. ایک وقت تھا جب ہمارے تمام کام ہو جاتے تھے اور پھر بھی ہمارے پاس وقت بچ جاتا تھا اور ہم سکون کی نیند سوتے تھے. دور جدید کے تیز رفتار وقت کا اب یہ حال ہے کہ تمام تر مشینی سھولیات میسر ہونے کے باوجود ہمارے کام ختم نہیں ہو پاتے اور ہمارے پاس فارغ وقت بھی نہیں بچ پاتا. اور ہم بے سکونے رہتے ہیں.
مقابلے, مسابقت, کامیابی, ترقی کے درجات اور معیارات اس درجہ بدل چکے ہیں کہ اب ہمارا مقابلہ آس پاس کے انسانوں کے ساتھ بھی نہیں ہے. بلکہ ہر لحظہ ہمیں اپنی ہی ایجاد کردہ مشینوں سے مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے. ہمیں کسی اور سے نہیں, خود اپنے آپ سے جنگ لڑنی پڑ رہی ہے. اس دو طرفہ لڑائی نے ہمارے قدموں کے نیچے سے زمین کھینچ لی ہے. اور ہمیں ہوا میں معلق کر دیا ہے. دور جدید نے ہماری سوچ کے زاوئیے اور ہماری منزل کے راستے بدل دئیے ہیں. ہماری ترجیحات, ہماری سمتیں تبدیل ہو گئی ہیں. سکون اور تنہائی کے لمحات ہمیں کھلنے لگے ہیں. محفلوں کا شور اور غل غپاڑہ ہمیں اچھا لگنے لگا ہے. ہماری دلچسپیوں اور تفریحات کے محور بدل گئے ہیں. خوشگوار, بھرپور اور کامیاب زندگی سے متعلق بنیادی فلسفے اور نظریات کے رنگ ڈھنگ بدل چکے ہیں.
یہاں تک کہ ہماری جینیاتی ساخت تک تبدیل ہو رہی ہے اور ہمیں کوئی ہوش نہیں ہے.
ان سب تبدیلیوں سے, بلکہ کسی بھی تبدیلی سے کوئی فرق نہیں پڑتا, اگر آج ہم مطمئن اور پر سکون زندگی گزار رہے ہوتے. مسئلہ تو یہ ہے کہ دور جدید کے مسائل اور وسائل کے انبار نے انسان کو بونا بنا دیا ہے. اور اس بوجھ سے سب سے زیادہ نقصان ہماری فطرت, ہماری نفسیات اور ہماری روح کو ہوا ہے. ہماری تنہائی ہم سے روٹھ گئی ہے. فارغ وقت میں کچھ نہ کرنے کا سکون ہم سے چھن چکا ہے. ہمارے سر پر ہمہ وقت کاموں اور ذمہ داریوں کی تلوار لٹکی رہتی ہے. ایک کے بعد ایک اور مصروفیت ہمارے دروازے پر دستک دیتی رہتی ہے. ہر نیا دن ہمارے لئیے نیا چیلنج لے کر آتا ہے. صبح کا سنہرا پن اور راتوں کا نیلگوں فسوں, کسی افسانے کی داستان لگتا ہے.
یہ نہیں کہ فطرت کے عناصر آج موجود نہیں. مگر ان سے توانائی حاصل کرنے والی آنکھیں خود تماشا بن چکی ہیں. اور جب تماشائی, تماشا بن جاتے ہیں تو قدرت اپنے ہاتھ کھینچ لیتی ہے. دینا بند کر دیتی ہے. نوازنا چھوڑ دیتی ہے.
قدرت کی تقسیم انسانوں کی سمجھ میں بہت کم آتی ہے. ہم ایک دوسرے کو دیکھ کر رشک, حسد اور جلن کا شکار ہو جاتے ہیں. مقابلے کی دوڑ میں, ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں اپنا خون جلاتے ہیں. معاشرے میں اعلی سے اعلی مقام حاصل کرنے کی تگ و دو کرتے ہیں. بڑھیا سے بڑھیا چیزیں جمع کرتے ہیں. ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں. اور ان سارے چکروں کے بیچ اپنے آپ کو, اپنی اصلیت کو, فطرت اور قدرت کے اشاروں اور تقاضوں کو اس بری طرح مجروح کر بیٹھتے ہیں کہ ہماری زندگی معصومیت سے عاری اور ہماری روح زندگی سے خالی ہو جاتی ہے. اور ہم وقت کم ہے اور مقابلہ سخت کی تسبیح پڑھنے لگ جاتے ہیں.
ہم نے خود کو وقت کی تنگی اور مقابلے کی سختی کی زنجیروں میں باندھ کر یہ حقیقت فراموش کر دی ہے کہ زندگی درحقیقت بہت آسان اور خوشگوار ہے. قدرت کی رعنائیوں, رونقوں اور نعمتوں سے لبا لب بھری ہوئی. اگر ہم خود کو مقابلے اور مسابقت کی بھاگم بھاگ سے آزاد کر لیں اور اپنے نصیب پر قناعت کرلیں تو یہ سب خوشیاں اور رعنائیاں ہمیں ازخود ملنا شروع ہو جائیں گی.
پھر نہ ہمیں وقت کی کمی کا احساس ہو گا. نہ ہمارا کسی سے مقابلہ رہے گا. پھر ہمارا کامیابی اور ترقی کا زاویہ نگاہ بھی بدل جائے گا. اور ہم سکون اور طمانیت کی دولت سے مالا مال ہوتے چلے جائیں گے.

دعاگو .  ڈاکٹر صابر حسین خان 

ہفتہ، 24 نومبر، 2018

پل بھر کی کہانی

" پل بھر کی کہانی "  ( 13/01/1983 )

ڈاکٹر صابر حسین خان

تم نے تو مجھ سے
میرا فون نمبر
کبھی پوچھا ہی نہیں
مگر میں کیسے یقین کرلوں
تم نے میرے بارے
کبھی سوچا ہی نہیں
کہ وہ لمحہ پل بھر میں
ساری کہانی کہہ دیتا ہے
جس لمحے ایک پل کو
ہم دونوں
آنکھیں چار کرکے
نظریں چرا لیتے ہیں
راز دل کہہ کر بھی
حال دل چھپا لیتے ہیں

بساط

" بساط "    02/12/1982

ڈاکٹر صابر حسین خان

سوچ کی بساط پر
لفظوں کے مہرے
ادھر ادھر کرتا رہتا ہوں
خود کو حریف جان کر
چالیں چلتا ہوں
اپنے آپ سے کھیلتا رہتا ہوں
جب کبھی تنہا ہوتا ہوں
( اور اکثر ہی تنہا رہتا ہوں )
کہ شاید کبھی
کوئی شبیہ بن جائے
کاغذ سیاہ ہوتے رہتے ہیں
سیاہی ختم ہوجاتی ہے
مگر کسی صورت
مات نہیں ہو پاتی
کوئی صورت دکھ نہیں پاتی
بازی ختم نہیں ہو پاتی

جمعہ، 2 نومبر، 2018

ڈاکٹر صابر حسین خان .مصنوعی ذہانت . Artificial Intelligence

ARTIFICIAL SUPER INTELLIGENE

" غیر معمولی مصنوعی ذھانت "

دعاگو  .  ڈاکٹر صابر حسین خان .


مجھے بہت سی باتوں کی سمجھ بہت دیر میں آتی ہے. مگر کبھی نہ کبھی آ ہی جاتی ہے. کبھی خود بہ خود اور کبھی ٹھوکریں کھا کر. اور کبھی کچھ سن کر یا کچھ پڑھ کر. اگر اپنا احتساب خود کروں تو میں اپنی ذہانت کو اوسط درجے کا پاتا ہوں. ایمانداری سے دیکھا جائے تو میرا شمار ذہین لوگوں میں نہیں ہوتا. کبھی کبھی کچھ باتوں کو سمجھنے میں اتنی دیر ہو جاتی ہے کہ اچھا خاصا نقصان بھی برداشت کرنا پڑتا ہے.
میرے خیال میں یہ مسئلہ بہت سے لوگوں کا بھی ہے. خاص طور پر وہ لوگ جو پیدائشی اور جینیاتی طور پر دل سے سوچتے ہیں اور سوچے سمجھے بغیر قدم اٹھا لیتے ہیں. اور پھر ردعمل کے بعد سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ اب کیا کریں. ہم جیسے کم اور کمزور ذھانت والے لوگ عام طور پر جذباتی ہوتے ہیں اور مستقبل کے حوالے سے لائحہ عمل ترتیب دینے اور منصوبہ بندی سے عاری زندگی گزارنے کے عادی ہوتے ہیں.
اس کے برعکس ذھین اور بہت زیادہ ذھین افراد اپنے وقت کا بھرپور اور موثر استعمال بھی کرتے ہیں اور مستقبل کے پل پل کی پہلے سے تیاری کرکے رکھتے ہیں. اور اپنی ذھانت سے زینہ بہ زینہ ترقی اور کامیابی کی منازل طے کرتے چلے جاتے ہیں. ایسے لوگوں کی ذھانت کا بڑا حصہ موروثی ہوتا ہے. مگر ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جن کے آباواجداد نھایت کم عقل اور ناسمجھ ہوتے ہیں مگر وہ خود عمر کے ابتدائی سالوں سے ہی نھایت ذھانت کا ثبوت دیتے ہیں اور اپنے ساتھ کے لوگوں میں شروع سے ہی انفرادی مقام بنا لیتے ہیں. یہ لوگ بنا مبالغہ قسمت کے دھنی ہوتے ہیں. کہا جاتا ہے کہ ایسے لوگوں کی ذھانت میں صدیوں کا سفر شامل ہوتا ہے. کئی نسلوں کی عقل سمجھ اور اجتماعی ذھانت کا خمیر ایسے خوش قسمت لوگوں کی ذھانت کا حصہ بنتا ہے.
ایسی ذھانت اور کسی بھی طرح کی اور شدید ذھانت کی پہلی اور سب سے نمایاں علامت یہ ہوتی ہے کہ اس ذھانت کے حامل افراد سوتے جاگتے ہمہ وقت اپنی ذھانت بڑھانے اور استعمال کرنے میں مصروف رہتے ہیں. یہ ذھین لوگ میری اور آپ کی طرح تمام عمر ایک ہی دائرے کے اندر چکر لگاتے ہوئے نہیں گذارتے, نہیں گزار سکتے. ظاھری طور پر میری اور آپ کی طرح دکھنے والے یہ لوگ میری اور آپ کی طرح بار بار غلطیاں بھی کرتے ہیں مگر اپنی ہر غلطی اور ناکامی سے کوئی نہ کوئی سبق سیکھتے ہیں اور بہت ہی کم اپنی کسی غلطی کو دہراتے ہیں. میں اور آپ تو بار بار ایک ہی طرح کی غلطی کرتے ہیں, نادم ہوتے ہیں, توبہ کرتے ہیں اور کچھ دنوں بعد وہی غلطی دوبارہ کرتے ہیں. ذھین وفطین لوگ بار بار کی ایک جیسی غلطی سے بار بار بچتے ہیں اور ایسی نت نئی راہیں تراشتے اور تلاشتے رہتے ہیں جو ان کی غلطیوں کے امکانات کو کم اور کامیابی کے مراحل طے کرتے رہنے کے مواقع کو بڑھانے میں معاون ہوں. ان کا ہر نیا تجربہ نئے انداز کا ہوتا ہے. اور نئے نتائج سے بھرپور ہوتا پے.
ذھین افراد تجربات کرنے سے نہیں ڈرتے. اپنے آپ کو اور اپنے ماحول کو بدلنے اور بدلتے رہنے سے نہیں گھبراتے. ان کی گھٹی میں بہتر سے بہترین تک پہنچنے کی فطری مجبوری موجود ہوتی ہے اور وہ اپنی طے شدہ منزل تک پہنچنے سے پہلے تھک کر نہیں بیٹھ پاتے.
دنیا کے بیش بہا کارناموں اور ان گنت ایجادوں کے پس منظر میں انہی ذھین لوگوں کا ہاتھ ہوتا ہے. نئے زاویے، نئی جہتیں، نئے نظریے، نئے امکانات، نئی فکر، نئے خیال، زیادہ تر ذھین افراد کے مرہون منت ہوتے ہیں.
بہت زیادہ ذھین افراد بہت زیادہ بیوقوف لوگوں کی طرح معاشرے کے متوسط ذھانت کے حامل افراد کے ساتھ عام طور پر گھل مل کر نہیں رہ پاتے. اور نہ ہی کوئی نارمل عمومی ذھانت والا آدمی بہت زیادہ ذھین افراد کو بہت زیادہ دیر تک برداشت کر سکتا ہے. ہم میں سے شاید ہی کوئی بہت زیادہ ذھین اور بہت زیادہ بیوقوف آدمی کے ساتھ بہت زیادہ وقت گزار سکتا ہو. ہر دو صورتوں میں ایک محدود وقت کے بعد ہمارے پر جلنے لگتے ہیں. کم عقل اور ناسمجھ اور نادان کے ساتھ چند گھنٹے گزارنے کے بعد ہمیں ایسا لگتا ہے کہ اگر دو منٹ مزید بھی اس صحبت میں گزر گئے تو ہمارا اپنا دماغ کھوکھلا ہو جائے گا. اور ہمیں نفسیاتی علاج کی ضرورت پڑ جائے گی. اسی طرح ضرورت سے زیادہ ذھین اور سمجھدار لوگوں کی صحبت بھی کچھ مدت بعد ہمیں کھلنے لگتی ہے. کیونکہ ان کی باتیں جونہی ہمارے اوپر سے گزرنا شروع ہوتی ہیں تو ہمارے فیوز اڑنا شروع ہو جاتے ہیں. اور ہمیں ایسا لگتا ہے کہ ہم بہت کمتر اور بیوقوف ہیں، ہمیں کچھ نہیں آتا جاتا اور جو تھوڑا بہت آتا بھی ہے، وہ بھی اتنی مشکل باتوں اور اتنے پیچیدہ فلسفوں اور نظریوں کے بوجھ تلے دب کر ملیا میٹ ہو جائے گا. لہذا ہم جیسے درمیانے درجے کی ذھانت والے لوگ نہ ببانگ دہل حماقتیں اور بیوقوفیاں کر پاتے ہیں اور نہ ہی کبھی اپنی ذھانت اور عقل کی چمک دکھا پاتے ہیں. اور اپنے جیسے لوگوں کے بیچ رہتے ہوئے ایک طے شدہ عام سی زندگی گزارتے رہتے ہیں.
بہت زیادہ ذھین افراد ایسی زندگی نہیں گزار سکتے. نہ گزارتے ہیں. ان کی بہت زیادہ ذھانت ان کو عام طور پر نارمل سے زیادہ خود غرض, لالچی, موقعہ پرست اور جذبات سے عاری بنا دیتی ہے. وہ ہر شے, ہر بات, ہر کام, یہاں تک کہ ہر تعلق, ہر رشتے کو بھی فائدے اور نقصان کے پیمانے پر ناپنے تولنے کے عادی ہو جاتے ہیں. بہت زیادہ ذھین افراد اپنا وقت ضائع نہیں کر پاتے. اپنا وقت ضائع نہیں کرتے. وہ اپنے مطلب کے لئیے انتہائی بیوقوف لوگوں سے بھی روابط روا رکھنے میں کوئی حرج نہیں محسوس کرتے. اور انتہائی ذھین لوگوں کی صحبت میں بھی بہت مطمئن اور خوش رہتے ہیں. کیونکہ ان کا فوکس, ان کی توجہ پوری کی پوری اپنے مقصد پر مرتکز ہوتی ہے. خواہ اس کے لئیے ان کو کیچڑ میں سے موتی ڈھونڈنا پڑے یا پہاڑ کی چوٹی پر سے کوئی جڑی بوٹی توڑ کر لانی پڑے. وہ اپنی ذھانت سے اپنے راستے کی رکاوٹیں دور کرنے اور مستقل حرکت میں رہنے سے کبھی نہیں گھبراتے.
بہت زیادہ ذھین افراد گو اندرونی طور پر بہت زیادہ حساس اور انا پرست بھی ہوتے ہیں لیکن اپنے کام اور اپنے مشن کی مصروفیت کے دوران ان کو ارد گرد کے لوگوں کی باتوں اور تنقید کی رتی برابر پرواہ نہیں ہوتی. کبھی کبھی تو یہ مغالطہ بھی ہونے لگتا ہے کہ بہت زیادہ ذھانت کے پیچھے کہیں بہت زیادہ بیوقوفی تو پوشیدہ نہیں. اور ایک خاص نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ بات بھی توجہ طلب ہے.
بہت زیادہ ذھانت اور بہت زیادہ بیوقوفی کی دو انتہائیں درحقیقت ایک ہی جہت کے دو رخ ہوتے ہیں. فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ بیوقوفی کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا. جبکہ ذھانت کی ہر حماقت کی ابتدا اور انتہا کسی نہ کسی مقصد کو سمیٹے ہوتی ہے.
جدید علم نفسیات کے آغاز سے ماہرین نفسیات انسانی ذھن کی ان دو انتہاوں کے مطالعے اور مشاہدے میں مصروف عمل ہیں. اور انسانی ذھن کے گوناگوں کونوں کھدروں اور پوشیدہ گوشوں کو کھنگال رہے ہیں. اب تک کی تحقیق کے بعد ہزاروں نفسیات دان ایک ایسا نکتہ تلاش کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں جس پر سبھی ماہرین متفق ہیں. ایسا نکتہ جس کی بنیاد پر ہم سب بآسانی بہت زیادہ ذھین اور کم ذھین اور بیوقوف افراد کی ذھانت کے لیول اور معیار کی جانچ کر سکتے ہیں.
بہت زیادہ ذھین افراد کو قدرت کی طرف سے مستقبل میں جھانکنے اور مستقبل کو اپنی پسند, اپنی خواہش, اپنے مقصد کے مطابق ڈھالنے کی صلاحیت ودیعت کی گئی ہوتی ہے. ان کی نگاہ آنے والے وقت اور آنے والے وقت کے تقاضوں اور ضروریات پر رہتی ہے. ان کا ہر قدم, ان کا ہر عمل, حال کی بہتری کے ساتھ ساتھ مستقبل کے استحکام اور مضبوطی کے لئیے ہوتا ہے. ان کے دائرہ نگاہ کی وسعت روز مرہ کے معمولات اور روایتی کاموں کی حد تک نہیں ہوتی. وہ موزمبیق میں آنے والے زلزلے سے اندازہ لگا لیتے ہیں کہ اب برازیل میں سونامی آنے والا ہے. اور برازیل کے سونامی سے امریکہ اور برطانیہ کے اسٹاک ایکسچینج کا گراف کتنا اوپر نیچے چلا جائے گا.
عام متوسط ذھانت کے حامل افراد کسی ایک بات, کسی ایک واقعے سے مستقبل کی پیش بینی نہیں کر سکتے. اور نہ ہی اپنے آس پاس کے حالات اور واقعات میں رونما پذیر کسی تغیر اور تبدیلی سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس کے اثرات آنے والے دنوں میں کیا پڑیں گے.
رہا سوال انتہائی کم عقل لوگوں کا, تو ان معصوموں کو تو حال کی خیر خبر نہیں ہوتی. وہ اپنے روزمرہ کے مسائل کے حل میں اتنے الجھے رہتے ہیں کہ ان کو اردگرد اور حالات واقعات کی کسی بڑی سے بڑی تبدیلی تک کا بھی پتہ نہیں چل پاتا.
مختلف حوالوں سے انسانی نفسیات اور ذھانت کے انہی رنگارنگ پہلوؤں اور زاویوں پر صدی بھر کی ریسرچ اور نئے دور کی جدید ترین ایجاد کمپیوٹر کے ملاپ نے ایک نئی طرح کی ذھانت کو جنم دیا ہے. جو ہزارہا انتہائی ذھین ترین افراد کی مجموعی ذھانت سے بھی کئی گنا زیادہ ذھانت کی حامل ہے. جدید ٹیکنالوجی اور کمپیوٹنگ کی کوکھ سے پیدا ہونے والی اس ذھانت کو آج کے ماہرین سائنس اور ماہرین معاشرت اور ماہرین نفسیات نے " مصنوعی ذھانت " یا
" آرٹیفیشل انٹیلیجنس " کا نام دیا ہے.
گزشتہ 40 سالوں سے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر کے ماہرین, ذھانت کے اس نئے میدان میں اپنی ذھانت کے گھوڑے دوڑا رہے ہیں. اور ماہرین نفسیات کی مدد سے جانوروں, انسانوں اور مختلف ٹارگٹ گروپس کے ساتھ ساتھ مختلف ملکوں میں " مصنوعی ذھانت " کے تجربات کرتے کرتے اب گزشتہ 15 سے 20 سالوں میں اس سے بھی زیادہ ایڈوانس اور خطرناک دائرے میں قدم رکھ چکے ہیں. 
اور وہ دائرہ ہے " آرٹیفیشل سپر انٹیلیجنس " کا. یعنی " غیر معمولی مصنوعی ذھانت ".
" مصنوعی ذھانت " سے کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی کی مدد سے انسانوں کے کام آسان کرنا اور انسانوں کی جگہ کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی کی سہولیات سے کام لینا ہوتا ہے. سو لوگوں کا کام ایک مشین سے لینا یا ایک سوفٹ وئیر کی مدد سے گاڑیوں, جہازوں, کارخانوں کو بآسانی چلانا آج مصنوعی ذھانت کی وجہ سے نھایت آسان ہو گیا ہے اور عملی زندگی میں جگہ جگہ اس کا مظاہرہ بھی ہو رہا ہے.
لیکن جو چیز لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہے, وہ آرٹیفیشل سپر انٹیلیجنس کا خفیہ اور خطرناک استعمال ہے. جہاں ایک طرف آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو اب کھلے عام, عام انسانوں کے استعمال میں دے دیا گیا ہے. وہاں دوسری طرف آرٹیفیشل سپر انٹیلیجنس کو عام انسانوں کی نفسیات اور شخصیت اور رویوں اور جذبات اور خیالات اور نظریات اور احساسات اور ذھانت کو مخصوص شکل میں ڈھالنے, موڑنے اور بدلنے کے لئیے انتہائی پوشیدہ اور خفیہ طریقوں سے برتا اور استعمال کیا جا رہا ہے.
ہم میں سے بہت کم لوگوں کو پتہ ہے یا پتہ چل پاتا ہے کہ ہم کتنا اور کس حد تک آرٹیفیشل سپر انٹیلیجنس کے ایجنڈے اور منصوبے کے مطابق زندگی گزارنے پر مجبور ہیں. اس ضمن میں بہت سی مثالیں موجود ہیں اور دی جا سکتی ہیں مگر کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ آپ خود اپنی اپنی ذھانت کو حرکت میں لا کر اپنے چاروں طرف نظر دوڑائیں, گزشتہ 5 تا 10 سالوں میں دنیا کے ملکوں میں اچانک رونما پذیر ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں سوچیں, مختلف علاقوں میں آنے والے زلزلوں اور سمندری طوفانوں کا جائزہ لیں, کھیلوں کے بڑے بڑے ٹورنامنٹس کے نتائج سے لے کر جگہ جگہ ہونے والے سیاسی اور سماجی احتجاجوں اور ان کے نتیجے میں آنے والے انقلابات کی بابت غور کریں. آپ کو خود بخود سمجھ آنے لگے گا کہ ان سب کے پیچھے اور ان سب میں آلہ کار بننے والے لوگوں کی سوچ اور عمل میں اچانک تبدیلی آنے کی کونسی وجوہات ہیں اور ان وجوہات سے کس کس کے کون کون سے مطالیب اور مقاصد پورے ہوئے ہیں یا ہو رہے ہیں.
عقل مند کیلئے اشارہ کافی ہوتا ہے. اس مضمون کو پڑھ کر آپ بھی اپنی ذھانت آزما کر دیکھئیے. یہ دور اور آنے والا دور
" آرٹیفیشل سپر انٹیلیجنس " کا ہے. جو لاکھوں کروڑوں ذھین ترین انسانوں کی مجموعی ذھانت کا مرکب ہے. اسے سمجھنے کے لئیے, اسے اپنے ذھن اور شخصیت پر حاوی نہ ہونے دینے کے لئیے, اس سے نبردآزما ہونے کے لئیے, اس کی خفیہ چالوں کو جاننے کے لئیے, اور اس کی چالوں کے جواب میں زیادہ بہتر چالیں چلنے کے لئیے مجھے اور آپ کو اپنے اپنے کمفرٹ زون کو چھوڑنا ہوگا. اپنی اہلیت اور اپنی ذھانت کو ہر پل پروان چڑھاتے رہنا ہوگا. اور ہمہ وقت مصنوعی ذھانت اور غیر معمولی مصنوعی ذھانت کو فطرت اور قدرت کی ودیعت کردہ حقیقی ذھانت پر حاوی ہونے سے روکتے رہنا ہوگا.
کہ فطری اور حقیقی ذھانت ہر حال میں مصنوعی ذھانت سے افضل ہوتی ہے. لیکن اگر ہم اسے استعمال کرنا چھوڑ دیں اور اپنے خول اور اپنے خوابوں میں زندگی بسر کرتے رہیں تو وہ وقت اب زیادہ دور نہیں جب ہمارا ذکر پھر محض تاریخ کی کتابوں میں ملے گا.

دعاگو .  ڈاکٹر صابر حسین خان