منگل، 20 اگست، 2019

" ہولناک تباہی " ڈاکٹر صابر حسین خان

" ہولناک تباہی "
دعاگو ۔ ڈاکٹر صابر حسین خان ۔

آج اسکول میں ارجنٹ پیرنٹس میٹنگ تھی ۔ دو دن پہلے جو سرکلر آیا تھا ، اس میں وضاحت سے ماں باپ ، دونوں کو آنے کی ہدایت کی گئی تھی ۔ جس پر میں چونکا بھی تھا اور تشویش کا شکار بھی ہوا تھا ۔ کیونکہ گرمیوں کی چھٹیوں سے پہلے کی میٹنگ میں صرف والدہ کو کال کیا گیا تھا ۔
میڈم گزشتہ 42 سال سے نرسری اور کے جی اور پھر پرائمری اور اب 12 سال سے سیکنڈری یعنی دسویں تک کی تعلیم دے رہی ہیں اور بہت عمدگی اور خوش اسلوبی سے اپنے اسکول چلا رہی ہیں ۔ آج کی میٹنگ میں ہم پندرہ منٹ لیٹ پہنچے ۔ صرف آٹھویں کلاس کے بچوں اور بچیوں کے والدین کی میٹنگ میں صرف اگلی دو قطاروں میں لوگ بیٹھے ہوئے تھے ۔ اور باقی کی بیس بائیس قطاریں کی نشستیں خالی پڑی ہوئی تھیں ۔ ہمارے بعد بھی محض دو اور بچوں کے والدین آئے ۔ باقی Seats اگلے ایک ڈیڑھ گھنٹہ تک خالی ہی رہیں ۔ ناظم آباد 4 نمبر کے ایک اوسط درجے کے انگلش میڈیم سکول کی آٹھویں کلاس کے 2 سیکشن میں لگ بھگ 70 بچوں اور بچیوں کے والدین میں سے بمشکل پندرہ سولہ ہی اپنے اپنے بچوں کی بابت معلومات لینے کے لئیے آئے تھے ۔
ہفتہ کا دن ۔ بہت سے مرد حضرات تو شاید ورکنگ ڈے کی وجہ سے نہیں آپائے ہوں گے ۔ لیکن کم از کم والداوں کو تو آنا چاہئے تھا ۔ چونکہ میرا بیٹا بھی آٹھویں کلاس میں پڑھتا ہے تو سرکلر پڑھ کر پہلا خیال یہی آیا کہ اس نے کلاس میں کوئی حرکت یا شرارت کی ہوگی تو میڈم نے طلب کیا ہے ۔ مگر اسکول پہنچ کر پتہ چلا کہ سبھی والدین کو بلایا گیا ہے ۔
میڈم ، اسکول کی بلڈنگ کے آنگن میں ، کلاس رومز کی چھوٹی کرسیوں پر بیٹھے بڑی عمر کے والدین کی کلاس لے رہی تھیں ۔
میں تیسری قطار میں بیٹھنے لگا تو انہوں نے خاص طور پر مخاطب کرکے پہلی قطار میں بیٹھنے کو کہا ۔ اور پھر مجھے دیکھتے ہوئے اپنی بات کو آگے بڑھایا ۔
ٹی وی ، اخبارات اور فیس بک کے ذریعے مجھ تک اس ہولناک مسئلے کی خبریں پہنچتی رہی تھیں ۔ پتہ چلا کہ یہ مسئلہ ملک اور شہر کے Elite علاقوں کے اسکولز ، کالجز اور یونیورسٹیز سے پھیلتا ہوا ناظم آباد جیسے اوسط اور متوسط علاقے تک بھی آپہنچا ہے ۔ اور جس کلاس اور اسکول میں میرا بیٹا پڑھ رہا ہے اور کے جی ، نرسری سے میڈم کے زیر سایہ ہے ، وہاں کے پانچ لڑکوں کا گروپ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے ۔
پیسے جمع کرتے ہوئے ۔ ٹیچرز کی تفتیش اور تحقیق کے بعد پتہ چلا کہ پیسے اس لئیے جوڑے جارہے تھے تاکہ ناظم آباد گول مارکیٹ ، نزد کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی آفس ، میں واقع ایک پان سگریٹ شاپ سے شیشہ خرید کر پیا جائے ۔
عام طور پر میں اپنے کالمز میں لوگوں اور اداروں کے اصلی ناموں کے استعمال سے گریز کرتا ہوں لیکن میڈم اور ان کے اساتذہ کی ٹیم نے ملوث بچوں کے بتانے پر ان کے ساتھ جا کر جب متعلقہ دوکان پر پہنچ کر استفسار کیا تو دوکان والوں نے اعتراف کیا کہ ان بچوں نے پانچ سو روپے ایڈوانس جمع کرائے تھے اور باقی کے چار سو روپے لانے پر ان کو شیشہ یا مطلوب نشہ دیا جانا تھا ۔
آٹھویں کلاس کے تیرہ چودہ سالہ بچوں کو ، کوئی نشہ تو درکنار ، سگریٹ تک کی فروخت نہ صرف قانونی جرم ہے بلکہ معاشرتی اور سماجی اور اخلاقی سطح پر ناقابل معافی سنگین گناہ ہے ۔ مگر مشروم کی طرح پھیلتے ہوئے زہر کے بیوپاری اور پیسے کے پجاری ہمارے چاروں طرف پنجے گاڑ کے ہماری نئی نسلوں کی زندگی اور مستقبل سے کھیل رہے ہیں ۔ اور ہم والدین ، مذکورہ اسکول میں بلائی جانے والی ارجنٹ میٹنگ میں عدم شمولیت کی طرح آنکھیں بند کرکے بیٹھے ہیں ۔
" آپ لوگوں کے بچوں اور بچیوں کو اتنے سال ہوگئے اس اسکول میں پڑھتے ہوئے ۔ کیا کبھی اسکول انتظامیہ نے کمیٹی ڈالنے یا کسی اور مد میں آپ لوگوں سے پیسے منگوائے ۔ نہیں نہ ۔ فیس کو واوچر بھی براہ راست بینک میں جمع کروانے کے لئیے دئیے جاتے ہیں ۔ "
میڈم کہہ رہی تھیں ۔
" پھر آپ نظر کیوں نہیں رکھتے اپنے بچوں پر ۔ ان کے پاس سو اور پانچ سو کے نوٹ کہاں سے آتے ہیں ۔ لنچ بنا کر کیوں نہیں دیتے ۔ میں اسکول کا کینٹین بند کردوں تو بچے اسکول سے باہر کی دوکانوں سے چیزیں خریدنا شروع کر دیں گے ۔ تیس چالیس روپے سے زیادہ نہ دیا کریں بچوں کو ۔ ان کے ہاتھ میں پیسے رکھنے کی بجائے ان کو خود کھانے پینے کی چیزیں خرید کر دیں ۔ "
میڈم کی باتوں میں وزن تھا مگر وہاں بیٹھے ہوئے والدین اور وہاں نہ آنے والے خواتین و حضرات کے پاس اپنی سگی اولاد کے لئیے وقت نہیں تھا کہ مائیں صبح جلدی اٹھ کر بچوں کو لنچ تیار کرکے دے سکیں اور باپ ، شام گھر آنے کے بعد بچوں کو ان کی پسند کی چیزیں دلا سکیں ۔ یہ المیہ صرف ایک اسکول کے بچوں کا نہیں ہے ۔
موبائل فون اور کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے آزادانہ استعمال نے نئی نسل کے بچوں کو سپر فاسٹ بنادیا ہے ۔ اور چونکہ ہمارے پاس اپنے بچوں کے لئیے وقت نہیں ہے تو ہم نہ ان کے شانہ بشانہ چل پاتے ہیں اور نہ ان پر چیک اینڈ بیلنس رکھ پاتے ہیں ۔ ہم اپنی دنیا میں مگن ہیں اور ہمارے بچے صحیح اور غلط کے فرق کو سمجھے بنا ہر طرح اچھی بری بات اور چیز کو اپنا رہے ہیں ۔
کولڈ ڈرنکس ، پیزا ، برگر ، بروسٹ ، فرنچ فرائز ، نہاری ، بریانی ، چاکلیٹ ، نوڈلز ، چپس ، ڈبے کے جوس اور اس نوعیت کی دیگر جنک فوڈ کی تو ہم خود بچوں کو عادت ڈالتے ہیں ۔ تین تین سال کے بچوں کے ہاتھوں میں خود اپنے ہاتھوں سے موبائل فون اور ٹیبلیٹ پکڑاتے ہیں ۔ ان کو ٹی وی اسکرین کے سامنے بٹھا کر گھنٹوں ان کو کارٹون اور دیگر اوٹ پٹانگ پروگرام دکھواتے ہیں ۔ پھر جب وہ ذرا بڑے ہوتے ہیں تو وقت سے پہلے ان کی معصومیت کو اپنے ہاتھوں ختم کردیتے ہیں ۔ مستقل یہ کہہ کہہ کر کہ آخر تم بڑے کب ہوگے ۔ کب عقل سمجھ آئے گی ۔ کب خود سے اپنے کام کرو گے ۔
اور پھر جب وہ معصوم بچے خود کو بڑا کرنے کے لئیے بڑوں والے کام ، بڑوں والی حرکتیں شروع کرتے ہیں تو ہم سب بوکھلا جاتے ہیں اور اپنی اصلاح کرنے کی بجائے معصوم بچوں کو ہی سزا کا مستحق قرار دیتے ہیں ۔ ہمارے بچے جب بھی کوئی نا قابل قبول کام کرتے ہیں تو درحقیقت ہم خطا وار اور ذمہ دار ہوتے ہیں ۔
ہماری تربیت اور رہنمائی میں کوتاہی اور کمی ، ہمارے بچوں کو منفی باتیں سیکھنے اور اپنانے کی طرف لے جاتی ہے ۔
اگر ایک باپ ،فخر سے اپنے دس بارہ سالہ بیٹے کے ہاتھ میں اپنی موٹرسائیکل کی چابی دیتا ہے اور اسے بائیک چلانے کو کہہ کر ، خود اس کے پیچھے بیٹھ جاتا ہے اور اسے شہہ دیتا ہے اور باضابطہ بائیک چلانا سکھاتا ہے تو قصور دس سالہ بچے کا ہوگا یا باپ کا ؟
اگر ایک باپ اپنے آٹھ دس سالہ بچے یا بچی کو محلے کی دوکان پر بھیج کر پان ، سگریٹ ، گٹکا ، ماوا ، یا اسی نوعیت کا اور گند بلا منگواتا ہے اور سال دو سال میں وہی بچہ ان چیزوں کو بہت اعلی سمجھتے ہوئے خود بھی چکھنے لگتا ہے تو مورد الزام کون ٹھہرے گا ، بچہ یا باپ ؟
اگر ایک ماں اپنی آٹھ دس سالہ بیٹی کے ساتھ بیٹھ کر ٹی وی پر ناچ گانے اور گالی گلوچ اور نازیبا سین اور ڈائیلاگ والی فلمیں اور ڈرامے دیکھے گی یا اونچی آواز میں موسیقی سنے گی یا بیٹی کو سامنے بٹھا کر گھنٹے بھر تک میک اپ میں لگی رہے گی یا اس کے ساتھ مل کر سیلفیاں لیتی رہے گی تو دو چار سالوں بعد قد کاٹھ نکالنے کے بعد وہی بچی جب اسکول یا پڑوس میں لڑکوں سے دوستیاں کرنے لگے گی تو اصل قصور وار ماں ہوگی یا وہ بچی ؟
اگر گھر میں ناچاتی ہو اور ماں باپ روز ، صبح شام ، بحث و تکرار اور لڑائی جھگڑوں میں لگے رہیں اور ایک دوسرے کو القابات سے نوازتے رہیں تو بچوں نے وہی رویہ ، وہی اعمال ، وہی افعال ، وہی انداز ، وہی گفتگو ، وہی کلمات سیکھنے ہیں اور پھر گھر سے باہر اسی طرح ہر ایک سے الجھنا ، لڑنا اور بدتمیزی کرنا ہوتا ہے ۔ ایسے بچوں کے ایسے رویوں کی سزا کس کو ملنی چاہئیے ۔ بچوں کو یا ماں باپ کو ؟
اس طرح کے چبھتے ہوئے سوالات کی فہرست اس تحریر میں لاتعداد صفحات کا اضافہ کردے گی ۔ اور حاصل پھر بھی کچھ نہیں ہونا ۔ شرم وحیا ہو یا غیرت یا عزت یا سمجھ یا فہم ، ان سب کے لئیے ایک لفظ ، ایک جملہ ، ایک سادہ سا سچ کافی ہوتا ہے ۔ ماننے والے ، اپنی اصلاح کرنے والے اشارہ ہی سمجھ لیتے ہیں ۔ اور اپنی چلانے والے ، اپنے آپ کو افلاطون سمجھنے والے اور خود کو عقل کل جاننے والے ، تمام عمر بھی لاکھوں لیکچر سننے اور ہزاروں کتابیں پڑھنے کے باوجود بھی کورے کے کورے رہتے ہیں ۔
میڈم کے لیکچر کے دوران ، میں سوال جواب بھی کر رہا تھا اور کن اکھیوں سے پچھلی دو قطاروں میں بیٹھے لوگوں کو بھی Observe کررہا تھا ۔ پھر جب میڈم نے مجھے کہا کہ میں حاضرین کو نفسیاتی پہلو سے بچوں کی تربیت کے حوالے سے کچھ بتاوں تو سب کے سامنے کھڑے ہوکر سب کی باڈی لینگویج کو اور اچھی طرح پڑھنے کا موقع مل گیا ۔
میٹنگ کی سب سے خاص بات تو یہ تھی کہ جن پانچ بچوں کی حرکت یا نا قابل قبول رویہ کی وجہ سے اسکول انتظامیہ اور میڈم کو یہ ارجنٹ اور اہم میٹنگ بلانی پڑی تھی ، ان میں سے کسی ایک کے والدین بھی میٹنگ میں شامل نہیں تھے ۔ حالانکہ میٹنگ سے پہلے اور نہ میٹنگ کے دوران ، میڈم یا کسی اور ٹیچر نے کسی بھی بچے کا نام نہیں بتایا ۔ ان کی یہ بات نفسیاتی ضوابط کے عین مطابق تھی ۔ اور بہت احسن تھی ۔ لیکن مجھے یہ دیکھ کر بہت دکھ بھی ہوا کہ بیچارے حاضر والدین بھی میری طرح اپنی اولاد کی تربیت اس طرح کرنے سے قاصر ہیں جس طرح آج کے تیز رفتار دور کا تقاضا ہے ۔
اور شاید یہی بنیادی وجہ ہے ہماری نئی نسل کی کج روی کی ۔ حاضرین میں سے ایک بچی کی والدہ ، جو ماشااللہ حجاب میں تھیں ، نے جب یہ کہا اور ذرا فخر سے کہا کہ ان کے گھر نہ کیبل ہے اور نہ انٹرنیٹ ۔ تو مجھے لمحے بھر کی خوشی کے فورا بعد ڈھیر سی مایوسی اور افسردی محسوس ہونے لگی ۔
" یہ تو بہت اچھی بات ہے کہ آپ نے ان بلاوں سے اپنے گھر کو بچا کر رکھا ہوا ہے ۔ لیکن کیا آپ نے تصویر کا دوسرا رخ دیکھنے کی کوشش کی ہے؟ ۔ "
میں نے ان کی بات کو سمجھتے ہوئے اور دیگر شرکاء کی کیفیت کو محسوس کرتے ہوئے بات کی ۔
" آج سے لگ بھگ دس سال پہلے جب ٹچ اسکرین والے موبائل فون نئے نئے آئے تھے تو مجھے بڑی وحشت ہوئی تھی اور میرے سارے فیوز اس وقت اڑنےلگے تھے جب میں نیا فون لینے مارکیٹ گیا تھا اور دوکاندار نے کہا تھا کہ سر جی نوکیا کا زمانہ گیا ۔ آپ کو جو ماڈل اور ڈیزائن چاہئیے ، وہ بننا بند ہوگیا ۔ اب تو یہ ٹچ اسکرین والے فون آرہے ہیں ۔ میری ضد ، وحشت ، اور کوفت کوئی سال بھر رہی ۔ اس دوران میں ارد گرد اور دوستوں کے ہاتھوں میں نئے رنگ برنگے نارمل سے بڑے موبائل فون دیکھتا رہا اور لوگوں کی عقل پر ماتم بھی کرتا رہا کہ انہوں نے اپنے آپ کو کس جھنجھٹ میں ڈال لیا ہے ۔ فون کا کام تو فون کرنا ہے ۔ اتنے لشکاروں کی کیا ضرورت ہے ۔
مگر پھر جب بڑی بیٹی کا میڈیکل کالج میں داخلہ ہوا اور اس نے گفٹ میں ٹچ اسکرین موبائل لیا اور اس پر دونوں ہاتھوں کی انگلیوں اور انگوٹھوں سے گٹ پٹ شروع کی تو مجھے اندر ہی اندر کچھ ہونے لگا کہ بچے جب اس طرح کے موبائل فون استعمال کرسکتےہیں تو میں کیوں نہیں کرسکتا ۔
وہ دن تھا اور آج کا دن ہے ۔ مجھے دونوں انگوٹھے تو ابھی تک چلانے نہیں آئے مگر الحمداللہ اب کئی ایسی ایپس پر بآسانی کام کر لیتا ہوں جو بہت سے بچوں کے علم میں بھی نہیں ہوں گی ۔
بتانے کا مقصد یہ ہے کہ سائنس کی نئی ایجادات ، بنی نوع انسان کی سہولیات اور فائدوں کے لئیے ہیں ۔ لیکن دنیا کی ہر شے کی طرح ، اگر ہم ان کو Negative استعمال کریں تو اس میں ہمارا قصور ہے ۔ ان چیزوں کا نہیں ۔ "
میری بات کی تائید میں میڈم نے بھی بات کی کہ جب آپ کی بچیاں ، اسکول آ کر ان بچوں اور بچیوں کے ساتھ بیٹھیں گی جن کے روز کے کئی گھنٹے موبائل فون اور انٹرنیٹ پر گزرتے ہیں تو ان کی باتیں سن سن کر ، ان کو جو تجسس ہوگا ، وہ ان کو منفی راہ پر لے جا سکتا ہے ۔
بچوں کو بتانا اور سمجھانا ہوتا ہے کہ کسی بھی چیز کا استعمال اور کسی بھی بات کو زندگی کا حصہ محض اس صورت میں صحیح ہوتا ہے جب اس سے آپ کی اور دوسروں کی ذات ، عزت ، مال ، صحت ، خاندان کو کوئی نقصان نہ پہنچے ۔ نہ اس بات یا چیز سے وقت اور پیسہ برباد ہو ۔ نہ اس سے سوچ میں انتشار پیدا ہو ۔ نہ اس سے معاشرتی اور سماجی نظام میں کوئی بگاڑ پیدا ہو ۔ اور تعلیم کے ساتھ تربیت کا یہ عمل بچپن سے ہی شروع کرنا ہوتا ہے ۔ اور تعلیم وتربیت کا یہ سلسلہ محض والدین اور گھر والوں تک ہی محدود نہیں ہونا چاہئیے ۔
دوست ، رشتہ دار ، محلے دار اور خصوصی طور پر اسکول اور دیگر تعلیمی درس گاہوں کے اساتذہ ، سبھی جب تک بچوں کی تربیت اور ان کی منفی عادات کی کانٹ چھانٹ میں اپنا اپنا حصہ نہیں ڈالیں گے ، اس وقت تک ہمارے بچے آج کے Fast and Furious سیماب صفت دور میں سکھ چین نہیں پا سکیں گے ۔
ہم سب کو اپنا اپنا کردار نبھانا ہوگا ۔ قربانی دینی ہوگی ۔ بچوں کے ساتھ بچہ بن کے ، ان کی انگلی پکڑ کے ، ان کو زندگی کے راستے پر چلنا سکھانا ہوگا ۔ بالکل اس طرح ، جس طرح ، ہم نے اپنے بچوں کو سال کی عمر میں زمین پر کھڑا ہونا سکھایا تھا اور پیدل چلنا سکھایا تھا ۔
ہم سب کو اس حقیقت کا بھی علم ہونا چاہئیے کہ بچوں کی نفسیاتی نشوونما کے حوالے سے بارہ تا اٹھارہ سال کی عمر انتہائی اہم ہوتی ہے ۔ اس عمر میں بچہ کے قلب اور ذہن پر جو ثبت ہوتا ہے وہ باقی تمام عمر کے لئیے یا تو اس کی شخصیت اور نفسیات کو مضبوط اور مستحکم کردیتا ہے ، اور یا کمزور اور مجروح بنا دیتا ہے ۔ اور عمر کے انہی چھہ سالوں میں بچے یا تو سعادت مند اور فرمانبردار بنتے ہیں اور یا باغی اور ضدی ۔
بچوں کی ان ہر دو صورتوں کی تشکیل کے ذمہ دار ہم ہوتے ہیں ۔ آئیے آج اپنے آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ آج اور ابھی سے ہم اپنے بچوں میں ، اپنے بچوں کے مسئلوں میں ، اپنے بچوں کی دلچسپیوں میں ، ان کے کھیلوں اور خوشیوں میں اور ان کی سوچوں اور دکھوں میں دل سے حصہ لینا شروع کردیں گے ۔ کھلاو سونے کا نوالا اور دیکھو شیر کی نگاہ سے ۔ زمانہ قدیم کے اس معروف جملے کو اپنے بچوں کی تربیت کا لازمی جز بنا لیں گے ۔ اور ان کو راہ راست پر رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے ۔
خواہ اس کے لئیے ہمیں اپنا Pattern ہی کیوں نہ توڑنا پڑے ۔ بچے سب کے سانجھے ہوتے ہیں ۔ ہماری محبت اور توجہ کے بھوکے ہوتے ہیں ۔ ہم ہی اپنی نئی نسل کے بچوں کو ہولناک تباہی سے بچا سکتے ہیں ۔
نوٹ : آپ میں سے جو اصحاب ، شیشہ فروخت کرنے والی مذکورہ دوکان کے مالکان سے پیار محبت سے اپنا یہ کاروبار بند کرنے کی درخواست کی استطاعت رکھتے ہیں ، وہ بذریعہ " امت " مجھ سے رابطہ کرکے نام اور مکمل پتہ حاصل کرسکتے ہیں ۔ میری استطاعت یہ تحریر لکھنے اور آپ تک پہنچانے کی حد تک تھی ، سو میں نے پوری کردی ۔ دیکھنا یہ ہے کہ اور دیگر والدین سانجھے بچوں کے لئیے کیا عملی قدم اٹھانے ہیں ۔ واضح رہے ، جذباتی اور ہنگامی قدم نہیں ۔ فکری ، اصلاحی اور تعمیری قدم ۔ ہولناک تباہی سے بچنے اوربچانے والا Solid قدم ۔

" ہولناک تباہی "
نیا کالم / مضمون/ بلاگ

دعاگو ۔ ڈاکٹر صابر حسین خان ۔
ماہر نفسیات وامراض ذہنی ، دماغی ، اعصابی ،
جسمانی ، روحانی ، جنسی و منشیات ۔

مصنف ۔ کالم نگار ۔ شاعر ۔ بلاگر ۔ پامسٹ ۔

DUAAGO
DR. SABIR HUSSAIN KHAN
CONSULTANT PSYCHIATRIST
PSYCHOTHERAPIST

AUTHOR . WRITER . COLUMNIST .
BLOGGER . POET . PALMIST .

www.drsabirkhan.blogspot.com
www.facebook.com/Dr.SabirKhan
www.facebook.com/duaago.drsabirkhan
www.youtube.com/Dr.SabirKhan
@DUAAGO
https://g.page/DUAAGO

پیر، 19 اگست، 2019

" نام کا کام " ڈاکٹر صابر حسین خان

" نام کا کام "

نیا کالم/ بلاگ/ مضمون

دعاگو ۔ ڈاکٹر صابر حسین خان

اگر آپ یہ کالم پڑھ رہے ہیں تو آپ میرے نام سے واقف ہوں گے ۔ اور آپ میں سے کئی پرانے لوگ میرے کام سے بھی واقف ہوں گے ۔ میں آپ میں سے بہت سے لوگوں کو نہیں جانتا ۔ سو مجھے نہ آپ کے نام کا علم ہے اور نہ آپ کے کام کا ۔ گزشتہ سینتیس سال سے میں جو کچھ لکھ رہا ہوں ، یا لکھنے کی کوشش کررہا ہوں ، یہ میرا کام نہیں ۔ یہ نام کا کام ہے ، جو شوق میں شروع ہوا اور اب لگتا ہے زندگی کا ایک حصہ بن گیا ہے ۔ آپ کی زندگی میں بھی ایسے کچھ کام ہوں گے ، جو شوق ہی شوق میں آپ کے شانہ بشانہ چل رہے ہوں گے ۔ آپ کے بچپن یا لڑکپن کی کوئی دلچسپی ، کوئی مشغلہ ، کوئی Hobby ، جو آج بھی آپ کو Inspire کرتی ہو اور آپ آج بھی اس میں اسی جنون اور جذبے سے دلچسپی لیتے ہوں جو بچپن یا لڑکپن میں موجود تھا تو وہ شوق ، وہ دلچسپی آپ کے لئیے نہ صرف باعث مسرت بنتی ہے بلکہ کبھی کبھی آپ کے بنیادی کام کے ساتھ ساتھ آپ کے نام کا ایک لازمی جز بن کر نام کا کام بن جاتی ہے ۔ آپ کے نام کا کام کہلانے لگتی ہے ۔
گزشتہ سال مارچ میں بھائی عبدالرحمن نے میری ملاقات ایسے ہی ایک اٹھاون سالہ نوجوان سے کروائی تھی ، جو آہستہ آہستہ قریبی اور دلی دوستوں کی فہرست میں شامل ہوتے گئے ۔ جن کے نام کا کام ، آج ، ان کے بنیادی کاموں سے زیادہ بڑھ چڑھ کر بول رہا ہے ۔
محمد نواز خان ۔ پاک گرین فاونڈیشن کے چئیرمین اور روح رواں ۔ میرے آبائی شہر میرپورخاص کی معروف سماجی شخصیت ۔
نواز بھائی کا ذریعہ معاش تو اللہ تعالی نے کچھ اور رکھا ہے مگر ان کی وجہ شہرت ، پودوں اور درختوں سے ان کی بے پناہ محبت ہے ۔ پاکستان کے چپے چپے کو ازسرنو ہرا بھرا بنانا ان کا مشن ہے ۔ اس سال یوم آزادی پر نواز بھائی کا پلان چودہ اگست تک چودہ ہزار شجر کا تھا ۔ جو انہوں نے بڑی محنت اور دلجمعی سے پورا کیا ۔ ان کے ہاتھ کے لگائے ہوئے پودے اب الحمداللہ درخت بن چکے ہیں ۔ میرپورخاص سے کراچی تک ، صوبہ سندھ کے لگ بھگ تمام شہروں میں نواز بھائی کی پاک گرین فاونڈیشن کے تحت لاکھوں پودے تقسیم ہوئے اور لگائے گئے ہیں ۔
بنا کسی غرض ، بنا کسی لالچ کے اللہ کی مخلوق کی خدمت دنیا کا وہ عظیم ترین کام ہوتا ہے جو ہر کسی کے نصیب میں نہیں آتا ۔ نواز بھائی کا نام کا کام افضلیت کے دوگنے درجے پر آتا ہے ۔ پودے اور درخت ، اللہ تعالی کی جان دار مخلوق ہیں ۔ ان کی پرورش ، ان کی دیکھ بھال ، ان کی نشونما کا انتظام ، بذات خود اپنی جگہ باعث سعادت ہے ۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ یہ سب کرنےکی نیت اس سے بھی زیادہ افضل ہو ۔ اشرف المخلوقات کی بھلائی ، آسانی اور خدمت ۔ لوگوں کو تازہ ہوا اور صحت کی فراہمی کے لئیے زیادہ سے زیادہ شجر کاری اور شجر کاری کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ لوگوں میں شعور اور واقفیت اور آگاہی پیدا کرنے کی ان مٹ خواہش اور ان تھک جدوجہد ۔
اپنے کام کے کام پس پشت ڈال کر ، اپنے نام کے کام کے لئیے چوبیس گھنٹے وقف کردینا آسان نہیں ہوتا ۔ بڑے بڑے نامور اور نامدار کچھ ہی عرصے میں سب کچھ بھول بھال کر ، سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر دو دونی چار اور چار دونی آٹھ کی گنتی پڑھنے لگ جاتے ہیں ۔ دو چار سال میں ان کے سارے شوق ہوا ہوجاتے ہیں ۔ اور معاش اور معاشرت کی دلدل ان کو اپنے اندر اتار لیتی ہے ۔ نواز بھائی نے اپنے جذبے اور امنگ کی تسکین کے سالوں پر محیط سفر کے دوران لاکھوں کا نقصان برداشت کیا ، بڑے دھوکے کھائے مگر کوئی بھی نقصان ، کوئی بھی دھوکہ ان کے شوق و یقین کی دیوار میں دراڑ نہیں ڈال پایا ۔ ابھی دو تین ماہ پہلے ہی ان کے ساتھ وہی سلوک ہوا جو عام طور پر دل و جذبے کے مسافروں کے ساتھ ہوتا ہے ۔
نواز بھائی نے بہت سالوں سے میرپورخاص کا عید گاہ گراونڈ گود لیا ہوا تھا ۔ اور اپنی محنت ، اپنے وسائل اور اپنے خرچے سے اسے نہ صرف مکمل ہرا بھرا کردیا تھا ، بلکہ انواع و اقسام کے پودوں کی نرسری لگا کر پورے شہر اور پورے صوبے میں ان کی مفت تقسیم اور باقاعدہ جگہ جگہ جاکر اپنے ہاتھوں سے ان پودوں کو زمین میں لگانے کا مستقل سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا ۔ گزشتہ سال دسمبر کی ایک سہ پہر اور شام ، میں نے بھی اس سبزے کی بہار کے بیچ مراقبہ اور قیلولہ کرتے گزاری تھی ۔
سرسبز عید گاہ گراونڈ میں روزانہ سو دو سو خواتین اور بچے فجر کے بعد چہل قدمی کرنے آیا کرتے اور تازہ ہوا میں تازہ دم ہوکر گھروں کو لوٹتے ۔ شام میں مرد حضرات کی باری ہوتی ۔ بیس سال میں ہزاروں لوگوں نے نواز بھائی کی محبت اور محنت سے استفادہ حاصل کیا ۔ مگر پھر وہی ہوا ، جو ہوتا ہے ۔ کہا جانے لگا کہ عید گاہ میں ہر سال دو نمازیں ہوتی ہیں ۔ اور نواز بھائی کا مالی غیر مسلم ہے ۔ تو اس سے عید گاہ کا تقدس متاثر ہوتا ہے ۔ اور دوئم روزانہ اتنی بڑی تعداد میں جو لوگ یہاں آکر واک کرتے ہیں اور بچے کھیلتے ہیں تو اس سے بھی مذہبی تاثر مجروح ہوتا ہے ۔ اس سے پہلے کہ بات بڑھتی ، نواز بھائی نے عید گاہ کی انتظامیہ سے استعفی دے دیا اور اپنی نرسری وہاں سے منتقل کرلی ۔
یہ ابھی حال ہی کی بات ہے ۔ اب عید گاہ پر تالہ لگ چکا ہے ۔ اور سبزہ ، خشک ہورہا ہے ۔ جبکہ نواز بھائی پہلے جیسی لگن اور خلوص سے پورے شہر میں پودے لگاتے پھر رہے ہیں ۔
نام کا کام جب کام کے کام سے زیادہ قلبی اور روحانی بنیادوں پر پرورش پاکر پروان چڑھتا ہے تو لوگوں کی حمایت یا مخالفت کا محتاج نہیں ہوتا ۔ اور جب اس کام میں خلوص نیت بھی شامل ہو تو فرزانوں کے بیچ ، دیوانے کے رنگ کچھ اور ہی آن بان اور شان دکھا رہے ہوتے ہیں ۔
نواز بھائی اور نواز بھائی جیسے لوگ اس مردہ اور بے حس معاشرے کی تاریکی دور کرنے کے آخری چراغ ہیں ۔ جو چاہیں تو اپنے تمام وسائل اپنے کاروبار کو پھیلانے میں خرچ کردیں ۔ مگر نام کے کام کے نام لیوا اپنے کام کے کام سے جو کماتے ہیں ، اس کا بیشتر حصہ اپنے نام کے کام پر خرچ کر ڈالتے ہیں ۔ اور اگر نام کا کام ، خلق خدا کی خدمت کی کوئی صورت ہو تو نواز بھائی اور ان جیسے دیگر لوگ اپنی تمام تر مالی کمزوریوں کے باوجود ذہنی سکون اور دلی اطمینان اور روحانی سرشاری سے ہمہ وقت بھیگے رہتے ہیں ۔
آپ بھی ذرا دیر کو اپنی ذات کے پوشیدہ گوشوں کو کھنگالئیے ۔ اپنے کام اور اپنے کام کے کاموں میں سے وقت نکالئیے ۔ اور اس وقت کو اپنی پسند کے کسی ایسے نام کے کام میں استعمال کیجئیے ۔ جس سے کسی بھی شکل میں دوسروں کا کچھ بھلا ہو ۔
کام ہو یا نام کا کام ، وہی کام بھلا ہوتا ہے جو فلاح ، بہبود اور بھلائی کا باعث بنے ۔ باقی کے سارے کام ، یونہی دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اور کہانی ختم ہوجاتی ہے ۔

" نام کا کام "
نیا کالم/ بلاگ/ مضمون
دعاگو ۔ ڈاکٹر صابر حسین خان ۔

ماہر نفسیات وامراض ذہنی ، دماغی ، اعصابی ،
جسمانی ، روحانی ، جنسی و منشیات

مصنف ۔ کالم نگار ۔ شاعر ۔ بلاگر ۔ پامسٹ

www.fb.com/Dr.SabirKhan
www.drsabirkhan.blogspot.com
www.fb.com/duaago.drsabirkhan
www.YouTube.com/Dr.SabirKhan

Instagram @drduaago

جمعہ، 9 اگست، 2019

" عمل کی گھڑی " ڈاکٹر صابر حسین خان

Toggle navigation


’’ عمل کی گھڑی ‘‘


ڈاکٹر صابر حسین خان

 

 

 



Aug 09, 2019 | 20:22:PM 


   


کہنے کو جب بہت کچھ ہو ، اور سوچنے کو کچھ نہ ہو ، تو ہمارے پاس کھونے کے لئیے کچھ نہیں ہوتا  اور جب کھونے کے لئیے کچھ نہ ہو تو کچھ کھونے کا ڈر بھی نہیں ہوتا  اور جب کسی بات کا ڈر نہ ہو تو ہم سوچے سمجھے بنا بولے چلے جاتے ہیں ۔


بولنے والے ہر دور میں زیادہ ہوتے ہیں بلکہ بہت زیادہ ہوتے ہیں اور جو زیادہ بولتے ہیں ، وہ سننے اور سمجھنے سے عام طور پر قاصر ہوتے ہیں،وہ دیکھنے ، پڑھنے اور سوچنے سے بھی عاری ہوتے ہیں اور چونکہ وہ دیکھنے ، سننے ، پڑھنے ، سمجھنے اور سوچنے کے عادی نہیں ہوتے ، تو ان کو کسی بات کی پرواہ بھی نہیں ہوتی  اور اس بات کی تو بالکل بھی پرواہ نہیں ہوتی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں اور کیوں کہہ رہے ہیں اور جو کہہ رہے ہیں،وہ کتنا سچ اور کتنا جھوٹ ہے؟ ۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے عہد میں بولنے والے جوق در جوق ، ہمارے آگے پیچھے ، چاروں طرف پھیلے ہوئے ہیں اور ہمیں گھیرے میں لئیے ہوئے ہیں اور سوچنے والے ، سمجھنے والے ، دبتے جارہے ہیں ، سکڑتے جارہے ہیں اور ڈر کر ، مرعوب اور متاثر ہو کر ، اکثریت کی راہ پکڑتے جارہے ہیں۔سوچنا چھوڑ کر بولنا شروع کر رہے ہیں اور چونکہ بولنے کو بہت کچھ ہے تو ہر پرانا ، نیا بولنے والا ، بڑبولا بنا پھر رہا ہے اور وہ وہ کچھ بول رہا ہے جو نہ کسی کی سمجھ میں آرہا ہے اور نہ عملی زندگی سے اس کا تعلق بن رہا ہے ۔
جس عہد میں ، جس دیس میں بولنے والے اور بڑھ چڑھ کر بولنے والے دن بہ دن بڑھ رہے ہوں اور ان کی صحیح غلط ، جھوٹی سچی باتیں سن کر ، سوچنے ، سننے اور سمجھنے والے بونے بن رہے ہوں اور بولائے بولائے پھر رہے ہوں تو اس عہد ، اس دیس میں ترقی ، تنزل کا راستہ پکڑ لیتی ہے  اور ایک وقت ایسا آتا ہے جب احساس مر جاتا ہے ، انسانیت دم توڑ دیتی ہے ، خواب عذاب بن جاتے ہیں ، خیال بانجھ ہو جاتے ہیں اور انسان ، انسانوں جیسی شکل رکھنے کے باوجود اپنی فطرت میں جانور بن جاتے ہیں اور جانوروں کی خصلت اپنا کر جانوروں کی طرح  اور بیشتر حالات میں جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے لگتے ہیں اور ان جانوروں میں بھی اعلی ارفع غیرت مند جانور نہیں بلکہ زیادہ تر اسفل اور رزیل جبلت کے حامل جانوروں کی خصوصیات زندگی کا حصہ بنتی چلی جاتی ہیں۔


انسان نما جانوروں کے غول میں غور سے دیکھنے اور کھنگالنے پر بھی شیر ، چیتے ، عقاب کی خصلت والے لوگ شاید ہی ملیں،بھیڑوں ، بکریوں کے ریوڑ اور مرغیوں ، کبوتروں کے جھنڈ اور مچھلیوں کے گروہ تو تھوک کے حساب سے دیکھنے میں آئیں گے،گدھوں اور گھوڑوں کی بھی کمی نہیں ،چیل ، کوے ، گدھ ، بھی وافر مقدار میں موجود ہیں،کتے ، بھیڑیے اور لومڑیوں کی خصوصیات والے بھی اچھی خاصی بھیڑ میں ہیں،الووں کی بھی کمی نہیں،جا بہ جا اونٹ اور ہاتھی اور بندر اور بن مانس جیسے بھی دکھائی دے جائیں گے،طوطوں کی تو بالکل بھی کوئی کمی نہیں،غرضیکہ انسان نما حیوانوں کے جھرمٹ میں ہر طرح کے چرند ، پرند ، درند کی خصلتوں اور خاصیتوں کے حامل نام نہاد انسانوں کا ہجوم بیکراں ہے،جس کی کوئی منزل نہیں، جس کا کوئی فلسفہ حیات نہیں ۔ ایسا انوکھا اور نرالا ہجوم ، جسے کسی شے کی کوئی پرواہ نہیں ،جسے کسی انسان کا کوئی احساس نہیں ، اپنے آپ میں گم ۔ گمشدہ ۔ سوچ ختم ہوجائے ، سمجھ ختم ہوجائے، سماعت ختم ہوجائے تو سب کچھ ہونے کے باوجود کچھ نہیں بچتا،محض حیوانی جبلت کے خاص خاص حوالے رہ جاتے ہیں ، بقا ، بچاؤ اور فرار ۔ صرف اور صرف اپنا مفاد ۔ محض Instict Of Self Survival ۔
جو باتیں ، جو چیزیں انسان کو انسان کا رتبہ دیتی ہیں ، وہ سوچ ، سمجھ ، سماعت کے ختم ہونے کے ساتھ ساتھ ختم ہوجاتی ہیں ۔ پرندوں اور جانوروں کے تو رہن سہن کے اپنے اصول اور قاعدے ہوتے ہیں،مخصوص ضابطے ہوتے ہیں مگر سوچ ، سمجھ اور سماعت سے عاری ، روح انسانی سے خالی انسانوں کی زندگی کا کوئی قاعدہ قانون ، کوئی ضابطہ اصول نہیں ہوتا ۔ ان کی سب سے عزیز شے ، ان کی اپنی آواز ہوتی ہے ۔ ان کو سب سے زیادہ اچھی ، اپنی باتیں لگتی ہیں ۔ ان کو سب سے زیادہ محبت ، اپنے آپ ، اپنے وجود ، اپنے چہرے سے ہوتی ہے ۔ بولنے والوں کو محض سننے والوں اور سن سن کر سر دھننے والوں کی ضرورت رہتی ہے ۔ ہمارے عہد میں ایسے لوگوں کی کھیپ کے بعد کھیپ تیار ہورہی ہے ۔ تماش بین اور سامعین ۔ جوق در جوق ، غول در غول ، واہ واہ کرنے ، تالیاں پیٹنے ، شور مچانے ، بھنگڑا ڈالنے ، گالیاں دینے کے لئیے ہمہ وقت موجود ہیں ۔ بولنے والوں کے بولوں پر لڈی ہو جمالو گانے کے لئیے تیار ہیں ۔ جانے بنا ، سمجھے بنا ، سوچے بنا ، پورا شہر سر پر اٹھانے کے لئیے بیتاب ہیں ۔


ایسے عہد میں ، ایسے لوگوں کے بیچ پھر کوئی کیا بات کرے ؟خوابوں کی ، خیالوں کی ، نئی دنیاوں کی ، کوئی کیا تصویر بنائے ؟خوشبوؤں ، روشنیوں اور آئینوں کی ، کوئی کیا کہانیاں سنائے؟ افضل تو یہ ہے کہ ایسے سمے ، جب کانوں پڑی آواز سنائی نہیں دے تو درویشی کی چادر اوڑھ کر آدمی گوشہ نشینی اختیار کر لے مگر ، اگر ، ہر سوچنے ، سننے اور سمجھنے والا ایسا کرنے کی سوچ لے گا اور اپنی ڈیڑھ اینٹ کی خانقاہ بنانے لگے گا تو بولنے والوں کے جم غفیر میں حجت تمام کرنے والے نہیں بچیں گے ۔ قدرت کا یہ قانون ہزاروں سال سے ہر عہد میں ہزاروں بولنے والوں کے مدمقابل دوچار سوچنے ، سننے اور سمجھنے والے کھدر پوش کھڑے رکھتا ہے کہ حجت تمام ہوجائے اور زمین جب لہو رنگ ہونے لگے تو بہتے ہوئے خون کا ہر حق ، ناحق قطرہ گواہی دے سکے کہ بولنے والوں کے مقدر میں تو عمل پیہم کے بیج نہیں ہوتے ، پر ، مگر ، اگر ، سوچنے ، سننے اور سمجھنے والے بھی آخری ساعتوں میں سوچتے ، سنتے اور سمجھتے ہی رہ گئے اور زمانے کے اشارے نہ سمجھ پائے اور آخری ساعتوں میں عملی قدم نہ اٹھا پائے تو ان کی تمام عمر کی ریاضت نے رائیگاں چلے جانا ہے ۔
کسی بھی نسل ، کسی بھی قوم ، کسی بھی عہد پر ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے جب سب کچھ بدل رہا ہوتا ہے ،سب کچھ بدلنے والا ہوتا ہے ،اوپر سے نیچے ہونے والا ہوتا ہے ۔ تاریخ ، جغرافیہ،تہذیب، ثقافت، سبھی کچھ اتھل پتھل ہورہا ہوتا ہے،اس وقت نہ بولنے والوں کا جادو چل پاتا ہے،نہ سوچنے والوں کو مہلت ملتی ہے،یہ وقت عمل کا ہوتا ہے،یہ وقت عمل 


کا ہے،بہت بول لیا گیا،بہت بولا دیا گیا ،بہت سوچ لیا گیا ،بہت سن لیا گیا ،گفتار نہیں،کردار کے غازیوں کی ضرورت ہے،تالیاں بجانے والوں اور ہاں میں ہاں ملانے والوں کی نہیں،عمل کے شاہینوں کی ضرورت ہے۔تقریروں ، مباحثوں ، قراردادوں ، مذمتوں کی نہیں ، ہر محاذ پر مدلل ، مضبوط ، متوازن اور کاری وار کی ضرورت ہے۔اوپرسے نیچے تک ،اپنی ہر صف میں سے غداروں اور منافقوں کی صفائی کی ضرورت ہے ۔ یہ وقت ہاتھ سے نکل گیا،یہ ساعتیں یونہی گزر گئیں تو پچھتاوے کا وقت بھی نہیں ملے گا،اب کی بار ندامت اور پشیمانی کے آنسو بہانے کی بھی فرصت نہیں ملے گی ۔بولنے ، سننے اور سوچنے کا لمحہ نہیں ، یہ عمل کی گھڑی ہے ۔ میں تو حسب توفیق ، اپنے تئیں حجت تمام کررہا ہوں ۔ باقی جو آپ کی مرضی ؟ باقی جو اللہ کی منشا ۔ بڑے بڑے عہد تمام ہوئے میں اور آپ کس گنتی میں ہیں؟؟؟ ۔
(ڈاکٹر صابر حسین خان شہر قائد میں رہائش پذیر اور ملک کے مشہور ماہر نفسیات ہیں،علم و ادب سے گہرا شغف رکھتے  اور مختلف قومی و عوامی مسائل پراخبارات میں ان کے کالمز شائع ہوتے رہتے ہیں۔ فیڈ بیک اور دیگر مسائل کے  کے لئے وٹس ایپ نمبر  03456680988  اور www.drsabirkhan.blogspot.com   پر ڈاکٹر صابر حسین خان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے) 


نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ


مشہور ٖخبریں

امریکی خاتون نے اپنی شرمگاہ میں ہیروئن چھپالی، پولیس نے منشیات برآمد کی تو آگے سے ...

مقبوضہ کشمیر کے بعد اگلا قدم کیا ہوگا ؟ بھارتی وزیر مملکت نے ایسی خوفناک بات کر دی ...

نوازشریف کیلئے عدالت سے خوشخبری، نیب کی ساری امیدوں پر پانی پھر گیا

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ، امریکہ نے بھارت کو بڑا جھٹکا دے دیا

شوہر کا لو میرج کرنے والی بیوی پر چھوٹے بھائی کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کرنے ...

”بیٹا پریشان مت ہو، ہم بہت جلد۔۔۔“ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے شاہد آفریدی کے بیان ...

شیئرکریں 


 

 

 





 

ہمارے بارے میں


 

رابطہ


 

اشتہارات


 

 

 

 

 

Copyright 2019. Reproduction of this website's content without express written permission from 'Daily Pakistan' is strictly prohibited.