منگل، 15 جنوری، 2019

نرم گوشے

"نرم گوشے" ڈاکٹر صابر حسین خان

لکھے ہوئے کو بہت کم دوبارہ پڑھنے کا موقع ملتا ہے. بہت کم کسی سوچے سمجھنے منصوبے کے تحت لکھا.نہ ہی کبھی کوئی تحقیق یا تنقیدی مضمون لکھنے کی کوشش کی.کسی ایک حوالے سے جو خیال دل میں پیدا ہوا,اس پر لکھنا شروع کردیا.بہت بار ایسا ہوا کہ ایک خیال سے دوسرا اور دوسرے سے تیسرا خیال آتا گیا.اور مضمون کی مانیئت ازخود بدلتی چلی گئی.ایک موضوع سے دوسرا موضوع لفظوں کی شکل اختیار کرتا گیا.نیلے رنگ کی کہانی پیلے رنگ پر ختم ہوئی.کبھی کئی نشتوں میں تحریر مکمل ہوئی.کبھی وقت,خیال اور لفظوں نے ساتھ دیا تو دوچار گھنٹوں میں ہی معاملہ مک گیا.
یہ طے ہے کہ دل کے بدلتے موسموں کا رنگ ھر مضمون ھر تحریر کے ھر رنگ میں ضرور جھلکا.دل کی کہانیاں ہوں یا ذہنی موشگافیاں یا روحانی سفر کے اسرار جو بھی لکھا,دل سے لکھا,دل والوں کیلئے لکھا.اس لئیے لکھ کر دوبارہ پڑھنے یا کانٹ چھانٹ کرنے کی خواہش نہیں ہوئی.البتہ شائع ہونے کے بعد جب جب اپنی تحریریں دوبارہ شائع شدہ شکل میں پڑھیں تو دو باتیں شدت سے محسوس ہوئی.پہلی مشکل زبان اور اس سے بھی زیادہ مشکل بیان اور دوسری یہ کہ بہت کچھ لکھنے کے باوجود سب کچھ نہیں لکھا جاسکا.کچھ باقی دہ گیا.کچھ اور زاویوں سے بات ہوجاتی تو کچھ اور لوگوں کو سمجھ آجاتی کچھ اور نکات Highlight کردئےجاتے تو موضوع میں جان پڑ جاتی.
حقیقی زندگی میں تو فلاں کردار بڑا Jolly بڑا خوش رنگ ہے.اسے کاغذ پر لاتے لاتے اس کے رنگ کچھ ماند پڑ گئے.اس کی شخصیت کے کچھ پہلو اجاگر نہیں ہوسکے.اس کی زندگی کے کچھ اہم Milestones  تو ادھورے رہ گئے.مگر پھر خیال آتا ہے کہ حقیقی اور فرضی دنیامیں کچھ تو فرق ہوتا ہے. کچھ تو فرق ہونا چاہیے. فکشن میں جب تک تھوڑی Fabrication نہ ہو.تھوڑی Fantacy نہ ہو.تو مزہ بھی نہیں آتا اور قاری کو سنجیدہ وثقیل کردار ہضم بھی نہیں ہوتا.
قاری کو مشکل مان اور مشکل زبان بھی بہ مشکل ہی سمجھ آتی ہے.بہت سی کام کی باتیں, بہت سے لوگ نہیں سمجھ پاتے. بہت سی باتیں بہت سے لوگوں کیلئے ہوتی بھی نہیں. ھر فرد کی دلچسپی کا دائرہ مختلف ہوتا ہے.خصوصا آج کے عھد میں مصروفیات اور دلچسپیوں کی بہتات نے پڑھنے اور پڑھانے کا سلسلہ موقوف کردیا ہے. کیا مشکل کیا آسان کتاب ہو یا کوئی مضمون. کچھ پڑھنے کی ضرورت ہی کیا ہے. اور بات جب اب کے وقتوں میں محض فائدے اور نقصان کی ٹہری ہے.تو دل کی کہانیوں اور دل والوں کی باتوں کو تو پڑھنا وقت کا ضائع ہے.ہاں البتہ باتیں کچھ جوڑ توڑ کی ہوں یا مرچ مصالحوں کی. یا جلتی پر تیل پھینک کے تماشے دیکھنے یا پگڑیاں اچھالنے کی ہوں تو کیا بات ہے.
دل کی کہانیوں میں تو دل جلنے اور دل کڑھنے کے سوا رکھا کیا ہے. یہ دور تو سائنس کا ہے.تحقیق اور تردید کا دور ہے.عقل اور منطق کا دور ہے.گولڈاور ڈالرز کا دور ہے. جو بات ریسرچ سے ثابت نہیں, اسے کیسے مان لیا جائے. حد عقل میں دل کی دلیلوں کا کیاکام.جس کام کے دو پیسے نہ لیں,اس کو کیوں کیا جائے.جس بات سے کچھ حاصل نہ ہو,اس کا کیا فائدہ. علم بھی اتنا ہی اچھا جو چار روپے کمانے میں مدد دے.جو علم روح اور دل کے سفر پر اکسائے اس سے دوری اچھی یہ دور تو مادے کا دور ہے. دل کی باتیں کرنے والے,دل کی کہانیاں کہنے والے,دل سےسوچنے والے,دل پہ چلنےپہ اکسانے والے,سائنس,تحقیق اور مادے کے دور میں بھلا کیسے پنپ سکتے ہیں. زر کے شور میں من کی بات کیونکر سنی جا سکتی ہے.
من کی باتوں کا جب یہ حال ہو تو من چلے کا کیا حال ہوگا.من چلے کا سودا کون خریدے گا.ھر دور کے من چلوں اور دل کے درویشوں کا حال,بے حال ہی رہاہے.دل سے سوچنے والے,دل کی کہنے والے کچھ ایسے خواب دیکھ لیتے ہیں. جن کے طلبگار ڈھونڈنے سے نہیں ملتے. مگر یہ سودائی پھر بھی تمام عمر اپنے خوابوں میں رنگ بھرنے میں گزار دیتے ہیں. بنا مانگے اپنے خوابوں کو بانٹنے میں مصروف رہتے ہیں.
سرسیداحمدخان کے من چلے پن نے علی گڑھ یونیورسٹی کی بنیاد رکھی اور برصغیر کے مسلمانوں میں جدید تعلیم سکھنے کا جذبہ پیدا کیا.پھر من چلوں کی ایک کھیپ نکلی اور برصغیر کی آزادی کے راستے بننا شروع ہوئے.ڈاکٹر محمد اقبال اور بیرسٹر محمد علی جناح کے دلوں نے عقل اور منطق کی کوئی پرواہ نہ کی .اور اپنے دور کے سب سے بڑے اور اوکھے من چلے قرار پائے.اپنے اپنے دور میں ایسے اوکھے من چلوں کی کمی نہیں ہوتی.کچھ نیوٹن اور آئن اسٹائن بن جاتے ہیں. کبھی کچھ من چلے آبادیاں چھوڑ کر غاروں اور خانقا ہوں میں جاچھپتے ہیں.
کبھی اپنے دل کی پکار پر لبیک کہہ کر کوئی دوا ایجاد یا دریافت کرنے بیٹھ جاتے ہیں.
غرضیکہ اپنے اپنے دور میں ھر دل والے نے دل کی مان کر کسی نئے خیال کی بنیاد رکھی ہے یا کسی خیال کو پروان چڑھایا ہے جسے پہلے کوئی پوچھتا نہیں تھا.
دل کی دنیا کے اپنے قاعدے اپنے اصول اپنے اپنے ضابطے ہوتے ہیں. عام طور پر سودوزیاں سے عادی اور مروجہ سماجی تقاضوں اور حوالوں سے الگ کسی کا دل شاعری کے سمندر میں دوب جاتا ہے.کوئی دل والا موسیقی اور سروں کی اسرار ڈھونڈنے نکل جاتا ہے. تو کوئی تصویروں کو بنا بنا کر اپنا آپ ڈھونڈتا ہے.
من کی نگری کے باسی ذرا اوکھے ذرا اوکھری ہوتے ہیں. ان کے سروں پر سینگ نہیں ہوتے لکین ان کے دلوں کا اضطراب انہیں جاگتے میں خواب دیکھنے اور پھر ان خوابوں میں رنگ بھرنے پر مستقل اکساتا رہتا ہے. گرتے پڑتے من چلے,چلتے رہتے ہیں. ان کے خواب اور خوابوں کے رنگ دوسروں کی زندگی میں رنگ بھرتے رہتے ہیں اور یہ رنگ چراغ چلاتے رہتے ہیں.
ہماری زندگی کی رونقیں اور روشنیاں, آرام اور سکھ چین کے پیچھے ایسے ہی دل والوں اور من چلوں کی زندگی بھر کی محنت اور لگن اور ولولہ چھپا ہوا ہے.میں جو یہ تحریر آج لکھ رہا ہوں آپ سب کیلئے دل سے,تو دل کی بات کو لفظوں کی شکل میں ڈھالنایونہی خود بخود آپ ہی آپ نہیں آگیا.بچپن سے اب تک جانے کتنے دل والوں اور من چلوں کے دلوں کی کہانیاں پڑھنے,سننے,دیکھنے کے بعد جو دو چار باتیں دل میں بیٹھیں انہی کے سہارے قلم کا کاغذ سے رشتہ بندھا اور خوابوں کے رنگ آپ سب کے دلوں کیلئے خیالوں میں ڈھالنا شروع ہوئے.اس یقین کے ساتھ کہ کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی دل میں ایسے چراغ جلیں گے جن کی روشنی اور دور تک پہنچ سکے گی.اور کچھ اور لوگوں کی شخصیت اور نفسیات میں دل و روح کے ایسے نرم گوشے پیدا ہوں گے. جو کچھ اور لوگوں کے لئیے دل کے چین کا سبب بن سکیں گے.

پیر، 14 جنوری، 2019

ہر پل بدلتی زندگی

نئی"ھر پل بدلتی زندگی " ڈاکٹر صابر حسین خان

نیا رجسٹر ہے.پرانا ھراپار کا قلم ہے.آج صبح کیلکولیڑ لینے جس دکان پر گیا.وہاں یہ خوبصورت رف صفحات, کم قمیت,چھوٹے Size کے رجسٹر نظر آئے تو 6 عدد لے لئیے .دو کلینک میں رکھ دئیے تین اقرا کو دے دئیے.ایک پر اب رات لگ بھگ ڈیڑھ بجے لکھنے کے شوق میں لکھنا شروع کر دیا ہے.مضمون کی کیا صورت بنے گی.خیال کی رو کہاں سے کہاں جائے گی. نہیں پتہ.بس یہ ہے کہ جی اداس نہیں فی الوقت تو,توانائی کیسی مثبت زاویہ نگاہ کو ہی Highlight کرے گی انشاءاللہ .
دل تو چاہ رہا ہے کہ رات کے اس پہر جب نیند نےسب کو اپنی آغوش میں لے رکھا ہے, نیند بھگا دینے والی کہانی کوئی کہی جائے.دل کے تاروں کو چھوتی ہوئی انسان اور انسان کی محبتوں کی کہانی, رویوں, جذبوں, دکھوں,امیدوں اور خوابوں کی کہانی. تنہائی کی کہانی,تنہائی کی محفلوں کی کہانی.
ھر فرد کی زندگی اور زندگی کے حالات کی طرح اس کی کہانی بھی الگ ہوتی ہے.ھر فرد کیلئے اس کی کہانی دنیا کی تمام کہانیوں اور تمام  باتوں سے زیادہ رنگین وسنگین اور اہمیت کی حامل ہوتی ہے. زندگی کے ھر دور میں ھر فرد کی کہانی مدوجز,کا شکار ہوتی ہے.کچھ کردار In ہوتے ہیں. کچھ کردارخاموشی سے Out ہوجاتے ہیں. حاضر منظر  سے  نکل کر پس منظر میں چلے جاتے ہیں.
کچھ کرداروں کا Impact رہتی عمر تک رہتا ہے. کچھ مہمان اداکاروں کا Role ادا کر کے ہمیشہ کیلئے Fade out ہو جاتے ہیں. کبھی دوبارہ نہ ملنے نہ آنے کیلئے کچھ زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں.
کسی کو پتہ نہیں ہوتا کہ کب اس کی یکسانیت سے بھرپور کہانی میں Twist آجائے یا اچھل کود سے بھرپور زندگی سکوت و ٹہراو  کے سمندر میں اتر جائے .کبھی کبھی پوری زندگی, عمر قید میں گزرتے گزرتے خاتمے کی جانب ہوتی ہے تو اچانک کہیں سے کوئی اجنبی محبت بھرا دل آزادی کی کنجی تھامے نمودار ہوجاتا ہے. تو کبھی تمام عمر ,شوق آوارگی ٹوٹے پتوں کی طرح ادھر سے ادھر اڑاتا پھرتا ہے تو ایسے میں کوئی مہربان. کوئی ہمدم,زخموں سے چور بدن کو مرہم لگانے اور گھر گھر سستی کے سکون میں بند کرنے ہماری مدد کو چلا آتا ہے.
کچھ پتا نہیں چلتا.کب کیا ہوجائے. بس یونہی یکدم سے کچھ ہو جاتاہے.دیکھتےہی دیکھتے گہرے سرمئی بادل چاروں اور اندھیرا کرکے بارش برسانا شروع کر دیتے ہیں.دیکھتے ہی دیکھتے یکدم سورج,بادلوں کی آوٹ سے نکل کر اجالا کر ڈالتا ہے. کسی بات کا پتہ نہیں چلتا.
کس لمحے کیا ہوجائے. کیا سے کیا ہو جائے.Routine سے بھرپور زندگی کا اچانک Tempo ختم ہو جاتا ہے. کچھ نیا ہو جاتا ہے. ایسا کچھ ہوجاتا ہے جو سوچ میں بھی نہیں ہوتا. کبھی تو بجھا ہوا دل. نئی نمو نئی حرارت پاکر دوبارہ دھڑکنے لگتا ہے. تو کبھی ھنستا مسکراتا شاداب چہرہ,غم اور اداسی کی زرد چادر اوڈھ لیتا ہے.
کب اوپر سے کسی بات کا Order آجائے.اود وہ ہوجائے.کچھ پتہ نہیں چلتا. ہم تیار ہوں یا نہ ہوں. ہمیں امید ہو یا نہ ہو.ہمارے دل میں اس بات کی خواہش ہو یا نہ ہو.ہمارے چاہنے نہ چاہنے سے کچھ فرق نہیں پڑتا. یہاں تک کہ کسی خاص خیال کو لفظوں کی شکل دینے بیٹھا جاتاہے.لیکن تحریر کی تصویر جب پوری ہوتی ہے تو متن اور حوالوں سے لیکر مرکزی خیال تک سبھی کچھ بدل چکا ہوتا ہے.
گول گپے کھانےکی نیت سے باھر نکلتے ہیں. آئسکریم کھاکر واپس آجاتے ہیں. دل پر پھتر رکھ کر فیصلہ کر لیتے ہیں کہ اب کسی پر اعتبار نہیں کریں گے. مگر پھر کچھ عرصے بعد ہی کیسی معصوم صورت سے دھو کہ کھا بیٹھتے ہیں.ایسا کیوں ہوتا ہے?-کسی کو نہیں پتہ.لکین ایسا سب ہی کے ساتھ ہوتا ہے. کسی کسی کے ساتھ اکثر اور کسی کسی کے ساتھ کبھی کبھار. کبھی انتہائی معمولی,نہ محسوس ہونے والی,ان چاہی بات ہوجاتی ہے. اور کبھی انتہائی معمولی, نہ محسوس ہونے والی,ان چاہی بات کے اثرات تمام عمر ہماری گرہ سے بندھے رہتے ہیں.
بات کیسی بھی ہو.یہ بات طے ہے.زندگی بدلتی رہتی ہے.کبہی کسی بات کی وجہ سے کسی فرد کے آنے یا جانے کی وجہ سے کسی وقعے یاسانحے کی وجہ سے تبدیلی جاری رہتی ہے. کبھی بہت آھستگی سے غیر محسوس طرح سے اور کبھی اچانک,یکدم,آنافانا,بنا کسی دستک کے دھڑام دھڑوم کی آواز آتی ہے.اور ہمارے اندر اور باہر سب کچھ بدل جاتا ہے. ہماری مرضی کے خلاف .ہمارے خواب و خیال کے گمان سے بالکل ہٹ کر.
ہم چاہیں نہ چاہیں ہمیں تبدیلیاں برداشت کرنی پڑتی ہیں. ہم میں سے کچھ لوگ بہت Flexible ہوتے ہیں. لچکدار ہوتے ہیں. روزانہ بھی ان کو کسی تبدیلی کا سامنا کرنا پڑے تو بآسانی اسے قبول کرتے چلے جاتے ہیں. اس کے مطابق خود کو ڈھالتےچلے جاتے ہیں. لکین زیادہ تر لوگوں کیلئے کسی بھی تبدیلی کو دل سے قبول کرنا مشکل ہوتا ہے. وہ مجبورا خود کو بدلتے ہوئے حالات کے تحت Adopt کرنے کی کوشش تو کرتے ہیں. لیکن ان کے اندر ان کے وجود کا ایک اہم حصہ باقی ماندہ عمر کیلئے باغی ہوجاتا ہے. وہ کسی بھی نئی تبدیلی کے مطابق نہ تو ڈھل پاتا ہے اور نہ ہی برضا ڈھالنا چاہتا ہے.
اور یوں ایسے تمام لوگوں کے اندر ایک جنگ شروع ہو جاتی ہے. آہستہ آہستہ ان کی شخصیت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگتی ہے. سوچیں پراگندہ اور خیالات منتشر ہونے لگتے ہیں. انجانی اداسی کے سائے ان کی روح میں تاریکی پھیلانے لگتے ہیں. اور ایک وقت ایسا آتا ہے جب خلا کے مہیب سناٹے ان کے خون میں سرسرانے لگتے ہیں. یہاں سے واپسی کا سفر پھر ممکن نہیں رہتا .نہ ہمت بچتی ہے نہ خواہش Point of No Return پر پہنچ کر ایسے لوگ زندہ ہوتے ہوئے  بھی زندوں میں نہیں رہتے.نہ ٹلنے والی ناگزیر تبدیلیوں کو دل سے قبول نہ کرنے پر عام طور پر ایسا ہی ہوتا ہے.
مشکل ضرور پیش آتی ہے. زندگی کے کسی بھی نئے موڑ پر آنے کے بعد کسی بھی نئی تبدیلی کو گلے لگانا آسان نہیں ہوتا. بس بات ذہن کے دریچوں اور دل کے دروازوں کو کھلا رکھنے کی ہوتی ہے. نگاہوں اور سماعتوں کو بھی چوکنا رکھنا پڑتا ہے.پھر جو کچھ ہوتا ہے. ہمارے باہر اور ہمارے اندر جو بھی تبدیلی آتی ہے. جو کچھ بھی بدلتا ہے. وہ ازخود ہماری ذات کا حصہ بن جاتا ہے. لکین تبدیلیوں کے عمل میں, تبدیلیوں کو قبول یا رد کرنے کے عمل میں ایک نکتہ نہایت اہم ہوتا ہے. اور عام طور پر ہم اسی نکتے کو کوئی اہمیت نہیں دیتے.
تبدیلی دو طرح کی ہوتی ہے. ایک تبدیلی ہم خود لانے کی کوشش کرتے ہیں. اور دوسری طرح کی تبدیلی ازخود آتی ہے. ہمارے علم میں آئے بغیر ہمارے شعور کاحصہ بنے بغیر ہماری خواہش یا کوشش یا جستجو یا تگ ودو کے بغیر.
جو تبدیلی ہماری خواہش و کوشش سے آتی ہے. اسے برقرار رکھنے میں اچھا خاصا خون پسینہ بہانا پڑتا ہے. بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں. لکین جس تبدیلی کا ازن,قدرت کی طرف سے ہوتا ہے. جو انتہائی خاموشی سے اچانک ہماری زندگی کا حصہ بنتی ہے. اسمیں کسی خودرو اگنے والے جنگلی پودے کی طرح بڑی مضبوطی بڑی جان ہوتی ہے. اس میں پنپنے اور بڑھنے کی بڑی اہلیت ہوتی ہے. اس طرح کی تبدیلی میں عام طور پر قدرت کی کوئی مصلحت ہماری پوشیدہ ہوتی ہے. یہ مصلحت ہماری سمجھ میں آجائے تو زندگی بہت سھل ہو جاتی ہے. اور جو ہم اپنی کم علمی کم فہمی سے اس کو سمجھ نہ پائیں اور پھر بھی اسے قبول کرلیں .اپنا سر جھکا دیں.Surrender کردیں.تب بھی جلد یا بدیر یہ ہمارےلئیے کارآمد ہی ثابت ہوگی.بس بات اس کو قبول یا رد کرنے کی ہے.ماننے والے عافیت میں رہتے ہیں. ترک کر دینے والے پچھتاتےرہتے ہیں.

اتوار، 13 جنوری، 2019

زندگی کا سفر

" زندگی کا سفر "  ڈاکٹر صابر حسین خان

سفر کسی بھی طرح کا ہو,آدمی کو تھکا دیتا ہے.اور اگر سفر مستقل ہے اور کسی مخصوص منزل کے تعین کے بنا ہو تو تھکن چار چاند لگا دیتا ہے. اور سونے پر سہاگا,سفر اگر کسی ذاتی غرض, ذاتی مطلب, ذاتی مفاد سے بالا ہو تو کبھی کبھی تمام تر افلاطونی اور آفاقی فلسفوں اور نظریوں کے باجود ہمیں ذہنی,جذباتی اور جسمانی سطح پر اتنا تھکا دیتا ہے کہ پھر چاہنے نہ چاہنے کے باجود ہمیں کچھ دیر کیلئے سفر کا سلسلہ روکنا پڑتا ہے.خودکو آرام اور سکون کے سپرد کرنا پڑتا ہے. رکنا پڑتا ہے. ٹہرنا پڑتا ہے. اور جو ایسا نہ کیا جائے تو پھر ہمارے اندر آہستہ آہستہ ایسی جسمانی ,ذہنی اور رویہ جاتی علامات پیدا ہونے لگتی ہیں جو نفسیاتی اصطلاح میں Burn out Syndrome کی شکل اختیار کر لیتی ہیں. اس سنڈروم سے بچنے اور خود کو بچانے کیلئے ہمیںRest اور Relaxation کی ضرورت پڑتی ہے.
صحیح وقت پر اگر گاڑی کا گرم انجن بند نہ کیا جائے اور اسے کچھ وقت کیلئے بند نہ رکھا جائے تو اچھی سے اچھی طاقتور انجن کی حامل گاڑی بھی ایک نان اسٹاپ لمبے سفر کے بعد جواب دے جاتی ہے. انسان کی مشینری بھی کام کے بعد آرام کی متقاض ہوتی ہے. لیکن ہم میں سے اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو چونکہ زندگی کے کسی بھی معاملے میں صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کرنے سے قاصر ہوتے ہیں. لہذا اایسے موقعوں پر بھی صحیح وقت پر درست اندازہ نہیں لگا پاتے کہ ہمیں اپنا سفر روک کر اپنے انجن کو ٹھنڈا کرنے کی ضرورت ہے. کب اپنی لالچ کے Accelerator پر سے پاوں ہٹا کر قناعت کے Brakes دبانے میں. کتنے کلو میٹر کے کاموں کو پورا کرنے کے بعد کتنی دیر کا رٹیسٹ لینا ہے.اپنے آپ کو کتنا Relief دینا ہے.
نتیجنا ڈیش بورڈ پر پہلے ریڈسگنل آتا ہے. پھر بیپ بیپ کی آواز آنا شروع ہو جاتی ہے اور پھر یکدم انجن جھٹکے لے لے کر روک جاتا ہے.دانا اور سمجھدار لوگ ریڈ سگنل پر ہی اپنی گاڑی اور اپنی زندگی کے سفر کو روک دیتے ہیں. اور جو نارمل سے بھی زیادہ دانا اور ہوشیار ہوتے ہیں, وہ ریڈ سگنل کے آنے سے پہلے ہی کسی سایہ دار مقام پر اپنی گاڑی روک کر نیچے اتر آتے ہیں. آرام کرتے ہیں. ماحول سے لطف اندوز ہوتے ہیں. ٹیونگ اور اورھالنگ کرتے ہیں. اپنا اور اپنی گاڑی اور اپنی زندگی کا Oil تبدیل کرتے ہیں. کاربوریڑ میں سے کچرا صاف کرتے ہیں. ضرورت ہو تو پلگ بھی بدل ڈالتے ہیں.پہیوں کی ہوا اور ریڈی ایٹر کا پانی چیک کرتے ہیں. اور ازسرنو تیاری کے بعد دوبارہ سفر پر نکل کھڑے ہوتے ہیں.
نہ کوئی سفر مستقل ہوتا ہے. نہ مستقل کیا جاسکتا ہے.وقفہ صحت کیلئے ضروری ہوتا ہے. نہ مستقل لکھا جاسکتا ہے.نہ مستقل پڑھا جاسکتا ہے. مستقل جاگتے رہنے سے جس طرح ذہنی توازن پلٹ جاتاہے.اور مناسب نیند نہ لینے سے اداسی اور چڑچڑاپن پیدا ہوتا ہے. اسی طرح کوئی کام مستقل کرتے رہنے سے ہمارا نروس سسٹم یا اعصابی نظام آہستہ آہستہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگتا ہے.قدرت نے چونکہ ہمارے اعصاب کو فطری طور پر بہت زیادہ طاقتور بنایا ہے تو شروع شروع میں ہمیں اس ٹوٹ پھوٹ کا علم نہیں ہو پاتا.بظاھر سب کچھ صحیح دکھائی دے رہا ہوتا ہے. سب کچھ صحیح چل رہا ہوتا ہے. اور ہم اطمینان اور سکون سے اپنے اپنے کاموں میں آگے بڑھنے اورExcellence پانے کیلئے 20-20گھنٹے لگے رہتے ہیں. عام طور پر ہمارے ان کاموں کا ننانوے فیصد حصہ اپنی مادی ترقی اور خوشحالی کے ذرائع اکٹھے کرنا ہوتا ہے. اور باقی ایک فیصد ان کاموں میں سہولت پیدا کرنے والے کاموں کو کرنا ہوتا ہے. اور باقی ایک فیصد ان کاموں میں سہولت پیدا کرنے والے کاموں کو کرنا ہوتا ہے. مثلا نہانا دھونا,صاف اور اچھے کپڑے خریدنا اور پہننا.جوتوں کو پالش کرنا,بال سنوارنا,شیو بنانا,کھانا اور سونا.بظاہر یہ کوئی بڑا عمل نہیں. دنیا کے سب ہی لوگ اس پیٹرن میں زندگی گزار رہے ہیں یا گزارنے پر مجبور ہیں. یہ سب روزانہ کے کام عموما ہماری فطرت ,ثانیہ بن جاتے ہیں. اور ہمیں اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ روز کے ان کاموں میں ہماری کتنی توانائی. کتنا وقت اور کتنے وسائل خرچ ہورہے ہیں. یہ سب کام ضروری ہوتے ہیں. لکین اکثر تعلقات پیدا کر ڈالتے ہیں کہ روزمرہ کے کاموں کی ایک وزنی گٹھرہی ہمارے سروں پر سوار رہتی ہے.اور ہمیں اپنا سفر اس اضافی بوجھ کے ساتھ طے کرنا پڑتا ہے.
بوجھ تو بوجھ ہوتا ہے.اود مستقل رہنے والا بوجھ ہمیں جلدی تھکا دیتا ہے.انسانی نفسیات ہے کہ ہمیں عام طور پر بہت سامنے کی اور روزانہ کے برتنے کی چیزیں باتیں نہ دکھائی دے جاتی ہیں نہ محسوس ہو پاتی ہیں. تو ہمیں اپنے سر پر رکھی غیر ضروری اضافی و نمائشی کاموں کی پوٹلی بھی نہیں دکھائی دے پاتی.ہم دائیں بائیں, آگے پیچھے,اوپر نیچے ہر طرف اپنی تھکان کا سبب ڈھونڈتے رہتے ہیں. مگر اصل وجہ تک نہیں پہنچ پاتے.
زندگی کے سفر میں جگہ جگہ Break لے کر, رک رک کر اپنے اندر اور باہر جھانکنا چاہیے.باریک بینی سے, سب سے پہلے اپنے وجود, .اپنی سوچ, اپنے خیالات, اپنے احساسات کو کھنگالنا چاہیے کہ ہم نے اپنے اندر کسی چھپر کس کونے, کس گوشے میں ایسا کیا کچھ چھپا رکھا ہے جو نہ صرف ہمارے لئیے غیر ضروری اور اضافی ہے بلکہ وزنی اور بے ہنگم بھی ہے.اور جس کے بوجھ تلے ہم چلتے چلتے, اپنے کام کرتے کرتے ذرا جلد تھک جاتے ہیں. اور ہمیں سانس لینے کیلئے رکنا پڑتا ہے.
اصلی اور دیرپا صفائی ,اندر کی صفائی ہوتی ہے.یہ ذرا زیادہ وقت طلب ہوتی ہے اور اسے کرنے میں ذرا ذیادہ مشقت کرنا پڑتی ہے. ذرا ذیادہ تکلیف برداشت کرنا پڑتی ہے. ہم انجانے میں,اپنی معصومیت میں,نادانی میں ایسی بھاری بھرکم سوچیں,خواہش اور جذبے پال لیتے ہیں جو نہ تو ہماری شخصیت اور نفسیات سے Compatableہوتے ہیں.نہ کسی طرح ہماری روح سےMatching میں آتے ہیں.ہماری حقیقی اور عملی زندگی سے Synchronizedہو پاتے ہیں.  اور نہ ہی ہمارے لئیے فائدہ مند ہوتے ہیں.
یہ سب خیال,سوچیں اور جذبے اور ان سے منسلک وسوسے, خدشے,مایوسیاں,امیدیں اور ان کے حصول کی کوشیشیں ناکامیاں,کامیابیاں  سب کے سب نہ صرف ہمارے لاشعور کے تہہ خانے میں Dump ہوتے رہتے ہیں. بلکہ وہاں پڑے پڑے انڈے بچے بھی دیتے رہتے ہیں اور ہماری شعوری توجہ کی نموپاکر پھلتے پھولتے بھی رہتے ہیں. مناسب وقت اور پھر ایک خاص مدت پر اگر ان کی کانٹ چھانٹ نہ کی جائے. Editing نہ کی جائے.Antivirus نہ چلایا جائے تو ہماری زندگی کا سفر بار بار رکنے لگتا ہے.
وقتا فوقتا ازخود رک کر,تھم کر اپنے ذہن کے Android سسٹم کی صفائی نہ کی جائےتو اسمارٹ فون کی طرح ہماری زندگی کا سسٹم بھی Hang ہونے لگتا ہے. عقل مندی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے کسی بھی اندرونی یا بیرونی سسٹم کو Hang نہ ہونے دیں.Corrupt نہ ہونے دیں. اپنے موبائل فون کی طرح. مہنگے سے مہنگا فون بھی اگر مستقل طور پر Periodically صاف نہیں کیا جائے گا تو چلتے چلتے وہ اچانک بند ہونے لگے گا اور اپنی Functionality کھونے لگے گا. اس کا Ram,اس کا Rom اس کے اندر پڑی سب Application اور Software آہستہ آہستہ غیر ضروری فائلز اور Memory سے بھرنے لگیں گے.
ایک عام کار,ایک عام فون کا جب یہ حال ہوتا ہے تو ذرا سوچئے کائنات کی سب سے اعلی سب سے ارفع مشین یعنی انسان کا کیا خیال ہوگا.اگر وہ اپنے اندر موجود فطری Softwares اور پھر مزید ہزاروں خواہش یا مجبوری کے تحت ڈالی گئی Application کو وقتا فوقتا صاف نہیں کرے گا.Anti malware سروس Activate نہیں کرے گا. تو کسیے اور کیونکر اس کے تمام اندرونی اور بیرونی نظام اور دیگر کام خوش اسلوبی سے چل سکیں گے.
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنی چیزوں کی دیکھ بھال اور حفاظت کا توانتظام کرتےرہتے ہیں.لکین خود اپنی دیکھ بھال, اپنی نگہداشت, اپنی صفائی ستھرائی, اپنی Tuning, اپنی Overhavling کا نہ کچھ سوچتے ہیں اور نہ اس کیلئے کوئی کوشش کرتے ہیں.
کوشش کیجیے کہ اس سے پہلے ہمارا سفر, ہماری زندگی کا سفر اچانک سے رک جائے .ہمارا اندرونی اور بیرونی نظام اچانک سے تھم جائے. ہمارے سوفٹوئیرز,ہماری اپیلی کشینز اچانک سے کرپٹ ہو جائیں. ہم کو ایسا کوئی اختیاری نظام Adopt کرلینا چاہیے جس کے تحت ہم ڈیش بورڈ پر ریڈ سگنل آنے سے پہلے اپنے اندر,اپنے ذہن,اپنے قلب,اپنی روح کی صفائی کرتے رہیں. ہر طرح کے اضافی اور غیر ضروری بوجھ سے نجات پاتے رہیں.
تبھی ہم ہلکے پھلکے رہ کر اپنی زندگی کا سفر, آرام و سکون سے طے کر سکتے ہیں. کہ بہترین سفر کم سے کم سامان کے ساتھ ہی ہوتا ہے.

پیر، 24 دسمبر، 2018

" وقت کم, مقابلہ سخت " ڈاکٹر صابر حسین خان

" وقت کم مقابلہ سخت "

دعاگو . ڈاکٹر صابر حسین خان

اتنے مہینوں سے میرے سامنے بابا محمد یحیحی خان کی 1100 صفحات پر مشتمل " لے بابا ابابیل " رکھی ہوئی ہے. دو بار شروع کرنے کی ہمت کر چکا ہوں. مگر مکمل فراغت کے باوجود چار چھ بار پڑھنے کے بعد رکھ دی ہے. سوچتا ہوں, ذرا اور سکون مل جائے تو پڑھوں گا. نہ اور سکون مل پاتا ہے, نہ کتاب مکمل ہو پاتی ہے. یہ بات نہیں کہ طبیعت ضغیم کتابوں کے مطالعے سے گھبراتی ہے. بابا محمد یحیحی خان کی گزشتہ 3 کتابیں بھی کم بھاری بھرکم نہیں ہیں. لیکن جن دنوں میں, جس موسم میں, وہ کتابیں سامنے آئیں. وہ وقت انتہائی مصروفیات کے باوجود شاید اتنا سخت اور سنجیدہ نہیں تھا. تبھی وہ تینوں یکے بعد دیگرے مھینے ڈیڑھ مھینے میں ختم کر لی گئیں. مگر اب لگتا ہے کہ وقت کم ہے اور مقابلہ سخت. وقت اور فراغت ہونے کے باوجود. اتنی موٹی کتاب میں جذب ہونے سے گھبراہٹ ہوتی ہے.
ایسی کیفیت محض مجھ اکیلے کی نہیں ہے. ہم سب اول تو مطالعے سے اور دوئم لگن اور توجہ سے پڑھنے اور بہت زیادہ پڑھنے سے اب کترانے لگے ہیں. ہر شے جدید سے جدید تر ہوتی جا رہی ہے اور اس کا سب سے زیادہ اثر ہمارے وقت پر پڑا ہے. ایک وقت تھا جب ہمارے تمام کام ہو جاتے تھے اور پھر بھی ہمارے پاس وقت بچ جاتا تھا اور ہم سکون کی نیند سوتے تھے. دور جدید کے تیز رفتار وقت کا اب یہ حال ہے کہ تمام تر مشینی سھولیات میسر ہونے کے باوجود ہمارے کام ختم نہیں ہو پاتے اور ہمارے پاس فارغ وقت بھی نہیں بچ پاتا. اور ہم بے سکونے رہتے ہیں.
مقابلے, مسابقت, کامیابی, ترقی کے درجات اور معیارات اس درجہ بدل چکے ہیں کہ اب ہمارا مقابلہ آس پاس کے انسانوں کے ساتھ بھی نہیں ہے. بلکہ ہر لحظہ ہمیں اپنی ہی ایجاد کردہ مشینوں سے مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے. ہمیں کسی اور سے نہیں, خود اپنے آپ سے جنگ لڑنی پڑ رہی ہے. اس دو طرفہ لڑائی نے ہمارے قدموں کے نیچے سے زمین کھینچ لی ہے. اور ہمیں ہوا میں معلق کر دیا ہے. دور جدید نے ہماری سوچ کے زاوئیے اور ہماری منزل کے راستے بدل دئیے ہیں. ہماری ترجیحات, ہماری سمتیں تبدیل ہو گئی ہیں. سکون اور تنہائی کے لمحات ہمیں کھلنے لگے ہیں. محفلوں کا شور اور غل غپاڑہ ہمیں اچھا لگنے لگا ہے. ہماری دلچسپیوں اور تفریحات کے محور بدل گئے ہیں. خوشگوار, بھرپور اور کامیاب زندگی سے متعلق بنیادی فلسفے اور نظریات کے رنگ ڈھنگ بدل چکے ہیں.
یہاں تک کہ ہماری جینیاتی ساخت تک تبدیل ہو رہی ہے اور ہمیں کوئی ہوش نہیں ہے.
ان سب تبدیلیوں سے, بلکہ کسی بھی تبدیلی سے کوئی فرق نہیں پڑتا, اگر آج ہم مطمئن اور پر سکون زندگی گزار رہے ہوتے. مسئلہ تو یہ ہے کہ دور جدید کے مسائل اور وسائل کے انبار نے انسان کو بونا بنا دیا ہے. اور اس بوجھ سے سب سے زیادہ نقصان ہماری فطرت, ہماری نفسیات اور ہماری روح کو ہوا ہے. ہماری تنہائی ہم سے روٹھ گئی ہے. فارغ وقت میں کچھ نہ کرنے کا سکون ہم سے چھن چکا ہے. ہمارے سر پر ہمہ وقت کاموں اور ذمہ داریوں کی تلوار لٹکی رہتی ہے. ایک کے بعد ایک اور مصروفیت ہمارے دروازے پر دستک دیتی رہتی ہے. ہر نیا دن ہمارے لئیے نیا چیلنج لے کر آتا ہے. صبح کا سنہرا پن اور راتوں کا نیلگوں فسوں, کسی افسانے کی داستان لگتا ہے.
یہ نہیں کہ فطرت کے عناصر آج موجود نہیں. مگر ان سے توانائی حاصل کرنے والی آنکھیں خود تماشا بن چکی ہیں. اور جب تماشائی, تماشا بن جاتے ہیں تو قدرت اپنے ہاتھ کھینچ لیتی ہے. دینا بند کر دیتی ہے. نوازنا چھوڑ دیتی ہے.
قدرت کی تقسیم انسانوں کی سمجھ میں بہت کم آتی ہے. ہم ایک دوسرے کو دیکھ کر رشک, حسد اور جلن کا شکار ہو جاتے ہیں. مقابلے کی دوڑ میں, ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں اپنا خون جلاتے ہیں. معاشرے میں اعلی سے اعلی مقام حاصل کرنے کی تگ و دو کرتے ہیں. بڑھیا سے بڑھیا چیزیں جمع کرتے ہیں. ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں. اور ان سارے چکروں کے بیچ اپنے آپ کو, اپنی اصلیت کو, فطرت اور قدرت کے اشاروں اور تقاضوں کو اس بری طرح مجروح کر بیٹھتے ہیں کہ ہماری زندگی معصومیت سے عاری اور ہماری روح زندگی سے خالی ہو جاتی ہے. اور ہم وقت کم ہے اور مقابلہ سخت کی تسبیح پڑھنے لگ جاتے ہیں.
ہم نے خود کو وقت کی تنگی اور مقابلے کی سختی کی زنجیروں میں باندھ کر یہ حقیقت فراموش کر دی ہے کہ زندگی درحقیقت بہت آسان اور خوشگوار ہے. قدرت کی رعنائیوں, رونقوں اور نعمتوں سے لبا لب بھری ہوئی. اگر ہم خود کو مقابلے اور مسابقت کی بھاگم بھاگ سے آزاد کر لیں اور اپنے نصیب پر قناعت کرلیں تو یہ سب خوشیاں اور رعنائیاں ہمیں ازخود ملنا شروع ہو جائیں گی.
پھر نہ ہمیں وقت کی کمی کا احساس ہو گا. نہ ہمارا کسی سے مقابلہ رہے گا. پھر ہمارا کامیابی اور ترقی کا زاویہ نگاہ بھی بدل جائے گا. اور ہم سکون اور طمانیت کی دولت سے مالا مال ہوتے چلے جائیں گے.

دعاگو .  ڈاکٹر صابر حسین خان