جمعہ، 1 مارچ، 2019

رباعی

"رباعی"
                              (4.9.83)
              "ڈاکٹر صابر حسین خان"

قدم بہ قدم,جواں در جواں یادوں کے مہکتے قافلے
قفس تا وقفس, چمن در چمن خوابوں کے سلگتے معاملے
دھیاں در دھیاں, فکر تا فکر,مکاں در مکاں, نظر تا نظر
کرم بہ کرم, مہر در مہر سانسوں کے سمٹتے فاصلے

بیداری

"بیداری"
                      (11.9.83)
               "ڈاکٹر صابر حسین خان"

میرے ہمدم عنبرین چاند
آؤ جشن منائیں کہ
آج کئی دنوں کے بعد
پھر ایک بار
دل کے طاق میں سجی ہوئی
درد کی میز مہکتی نعمتیں
یادوں کی گھنیری ہوا
کے دوبارہ چلتے ہی
گہری نیند سے
انگڑائیاں لیتی ہوئی خراماں خراماں
بیدار ہو رہی ہیں

شکار

"شکار"
                            (1.9.83)
                "ڈاکٹر صابر حسین خان"

نظروں کی سرحدوں پر
نیلگوں آسماں کے کنارے
جونہی سرمئی ہوئے
تھکے ہوئے مایوس سیاہ کبوتر کی
گردن چمکتے دھاریدار پروں والے
باز کے پنجوں کی
گرفت میں آگئی
جو کافی دیر سے تازہ خون
چکھنے کی آس لیئے شکار کے پیچھے
پر پھیلائے پھر رہا تھا
جانے کتنی ہی آنکھوں نے
اس خوں فگار منظر کو دیکھا ہوگا
لیکن میرے جواں دل میں
اترتے ہوئے اداسی کے سدا بہار
پنجوں کو دیکھنے والا
کوئی نہیں کوئی نہیں

امکان

"امکان"
                           (30.8.83)
               "ڈاکٹر صابر حسین خان"

میری نظر پڑتے ہی
کیوں تمہاری نظریں جھک گئیں
کیوں تمھارے قدم آج
یکبارگی لڑکھڑانے لگے
کیا یہ بھی ممکن ہے کہ
پت جھڑ کے موسم میں
جب دل کے نغمے ڈوبتے ہوں
اور آنکھوں کی شمعیں بجھتی ہوں
بھولی ہوئی محبت کی کونیل
دل میں پھر سر اٹھانے لگے
شاید یوں بھی ہوسکتا ہے
ورنہ تمھارے چہرے پر
میری نظروں کی حدت سے
آج حیا کے گلاب نہ کھلتے
تمھاری آنکھوں میں
میرے جذبوں کی شدت سے
ستاروں کے خواب نہ اترتے
چلتے چلتے مجھ پر
یکدم نظر پڑتے ہی
تمھارے قدم نہ ڈگمگاتے

مشغلہ

"مشغلہ"
                         (30.8.89)
                "ڈاکٹر صابر حسین خان"

شاخ در شاخ پھیلے ہوئے
اونچے شجر کے نیچے
زرد دو پہروں میں
چمکتی آنکھوں اور
دمکتے چہروں کی دنیا سے دور
ہر روز آنکھیں بند کر کے
جھلملاتی شعاؤں اور
سرسراتی ہواؤں کے سائے میں
گردن کی پشت پر
ہتھیلیوں کا تکیہ لگائے
خواب در خواب بیٹھے ہوئے
تنہائی کی خوشبو کو پینا
کتنا پیارا لگتا ہے

قطعہ

"قطعہ"
                           (30.8.83)
               "ڈاکٹر صابر حسین خان"

شام کے پھیلتے سائے ہیں
میں ہوں اور میری تنہائی
رات سے پہلے چلتے ہیں
یادوں کے چراغ آشنائی

وہ آ ئی شام

"وہ آئی شام"
                       (30.8.83)
              "ڈاکٹر صابر حسین خان"

وہ شام کہ جس کے انتظار میں
میں کئی دنوں سے سویا نہیں
آئی اور آکر چلی بھی گئی
اور کسی نے کچھ بھی بتایا نہیں
میں ہوں اور دل کا کھلا آنگن
جس پہ کسی شجر کا سایہ نہیں
میں اپنے سائے پر نظریں جمائے
اب راتوں میں بھی سوتا نہیں
کہ میں سوچتا تھا جس شام کو
اسکا آنا جانا میں نے دیکھا نہیں