جمعرات، 17 جنوری، 2019

انقلاب

                 "انقلاب
                          (9.12.88)
               "ڈاکٹر صابر حسین خان

زلزلے,سیلاب اور دھماکے
آن کی آن میں بڑی بڑی بستیاں
ہنستی کھیلتی آبادیاں
اجاڑ دیتے ہیں
اور لوگ حیرانی کے مارے
دانتوں تلے انگلیاں دبا لیتے ہیں
لوگ حیران ہو تے ہیں اور پھر اکثر
باقی ماندہ زندگی میں
قدرت کی ستم ظریفی پر
پل پل حیران ہوتے رہتے ہیں
مگر کتنی حیرت کی بات ہے
کہ یہی لوگ
اپنے ساتھ رہنے والوں میں
پیدا ہونے والی اس تبدیلی سے
بالکل بے خبر رہتے ہیں
جو ایک ہی شب میں آدمی کو
وقت سے پہلے مار دیتی ہے
لوگ یہ بات جانتے ہیں
مگر دیکھتے نہیں
کہ آنکھیں,آنسو اور ستارے
دن ڈھلے,شام سمے,رات چڑھے
ایک ان دیکھے تعلق کو
نبھاتے رہتے ہیں
لوگ یہ بات جانتے ہیں
مگر دیکھتے نہیں
کہ بیتی ہوئی راتیں
یادیں اور ان کہی باتیں
پورے چاند کی تنہائی میں
دل میں درد جگا دیتی ہے
لوگ یہ بات جانتے ہیں
مگر دیکھتے نہیں
کہ جب شبنم,سورج کو دیکھ کر
شرما کر ہوا کے آنچل میں
منہہ چھپا لیتی ہے
تو سر سے پیر تک پورا بدن
عجب واردات کا شکار ہو کر
لرز اٹھتا ہے
ایک سانچہ سا گزر جاتاہے
مگر ساتھ رہنے والے مطمئن وبے خبر
اپنے معمولات میں مصروف رہتے ہیں
لوگ نہیں دیکھ پاتے کہ پچھلی شب
جو شخص ان کےساتھ
خوابوں کے سفر پر گیا تھا
اگلی صبح اس کی آنکھیں
پتھرا کر ٹھٹھر گئ ہیں
کتنی حیرت کی بات ہے
تم میں سے کسی کو بھی
کسی کے بدل جانے کا
پتہ نہیں چلتا خبر نہیں ہوتی

دوست

                      "دوست"
                         (8.3.87)
                 "ڈاکٹر صابر حسین خان "

گو ابکے برس کی پہلی بارش میں
بوندوں کی تندوتیز بوچھاڑ نے
ہم دونوں کے بیچ
آسمان سے زمیں تلک
غلط فہمیوں کی دیوار بچھا دی تھی
لکین یہ خدا کا کتنا کرم ہے
کہ چہرہ بہ چہرہ رو بہ رو
ہونے والی باتوں کی نرمل دھوپ نے
پل بھر میں یہ کانچ کی دیوار ڈھا دی ہے
اب یہ کتنے کرم کی بات ہے
کہ ہم دوبارہ دو اچھے دوستوں کی طرح
محبتوں کے شاداب موسم میں
درمیاں کی خلیجیں پاٹتے ہوئے
آئندہ کی خوش آئند بارشوں میں
بھیگنے کا انتظار کرسکیں گے

                  

بدھ، 16 جنوری، 2019

We Are Not Wanted

"We Are Not Wanted "
                  (22.12.86)
                   "ڈاکٹر صابر حسین خان "

                          (1)
ہم سوچنے والے چپ چپ لوگ
ہمیشہ سوچتے رہتے ہیں
اپنے وقت کا ایک ایک پل
سوچ سوچ کر گزارتے ہیں
اپنی زندگی میں ایک ایک قدم
سوچ سوچ کر رکھتے ہیں
                      ………………
ہم کوئی بھی کھیل یوں نہیں کھیلتے
کہ ہم ہار جیت سے ڈرتے ہیں
ہمارا انتظار کوئی نہیں کرتا
ہم سے کوئی محبت نہیں کرتا
ہمارا انتظار کہیں نہیں ہوتا
                      ……………
چاہے کسی گلی کی پچ پہ
ٹینس کی گیند سے ہوتا ہوا
آٹھ اوور اور دو اننگز کا میچ           
یا کسی کیفے کے خواب آلودہ اور
نیم تاریک کیبن میں
چائے کی میز پہ
چوڑیوں کی کھنک ہو اور
پیرس کے سینٹ کی مہک ہو
ہمارا انتظار کوئی نہیں کرتا
ہمارا انتظار کہیں نہیں ہوتا
                          we are not wanted
                   ………………
ہمارے بارہ بجتے ہوئے چہروں
بڑھے ہوئے Shave اور بند لبوں کو دیکھ کر
ہماری چپ,ہماری سوچوں سے ڈر کر
لوگ ہمیں جھوٹی عزت دینے لگتے ہیں
سر!جناب!محترم !
بھائی!بھائی صاحب! انکل! کہہ کر
ہمیں مخاطب کرتے ہیں
جھک کر ہمیں سلام کرتے ہیں
لیکن اپنے اپنے دائرے میں
ہمیں شامل نہیں کرتے
اپنے اپنے گھر کے دروازے
ہمارے لئیے کبھی نہیں کھولتے
اور جو ہم کبھی غلطی سے
کوئی کھلا دروازہ دیکھ کر اندر قدم رکھ بھی دیں
تو ہمیں بڑی حیرت سے دیکھ کر
بڑی عزت سے باہر بھیج دیا جاتا ہے
ہم سوچنے والوں کے ساتھ
آخیر ایسا کیوں ہوتا رہتا ہے
لوگ جانے ہمیں کیا سمجھ کر
ہماری عزت کرتے ہیں
لکین ہم سے محبت نہیں کرتے
کسی مقام پہ ہمارا انتظار نہیں کرتے
               …………………
کیا ہماری اتنی بس اتنی سی ہی وقعت ہے
کہ ہم کتابیں پڑھ پڑھ کر
سوچ سوچ کر, خوں جلا جلا کر
لوگوں کے مسئلے حل کرتے ہیں
ہر گام پہ نصیحتیں کرتے رہیں
اور لوگ ہمیں کبھی انساں نہ سمجھیں
لمحہ بھر کو بھی ہم سے محبت نہ کریں
ذرا دیر ہمارا انتظار نہ کریں
                   ………………
آخیر ہم کب تک اس طرح
اپنا ہی خون پیتے رہیں گے
اپنی ہی شہ رگ کاٹتے رہیں گے
اپنے کاندھوں پہ اپنی ہی صلیب
آپ اٹھائے چلتے رہیں گے
آخیر کہیں کوئی تو ہمارا ہاتھ بٹانے کو ہو
کہیں کوئی تو ہماری ڈھارس بندھانے کو
کہیں کوئی تو ہمارے آنسو پونچھنے کو ہو
کہیں کوئی تو صرف ہمیں دیکھنے کو ہو
کہیں کوئی تو ہمارا انتظار کرنے کو ہو
                         ………………
                         (2)
ہم جو ہمیشہ پڑھتے رہتے ہیں
سوچتے رہتے ہیں, لکھتے رہتے ہیں
کتابوں کو, انسانوں کو
زندگی کے پراسرار تہہ خانوں کو
کوئی ہم سے محبت نہیں کرتا
کسی بھی جگہ
کسی کو بھی ہمارا انتظار نہیں ہوتا
ذرا سی دیر کو بھی
کوئی ہمیں اور ٹہرنے کو نہیں کہتا
کسی کی بھی سماعت
فون پہ ہماری آواز سننے کو نہیں ترستی
کسی کی بھی گویائی
ہماری توجہ اپنی طرف کرنے کو نہیں لرزتی
کسی کی بھی بینائی
ہماری آنکھوں کے آئینے دیکھنے کو نہیں ٹھٹکتی
کسی کے پرسنل انڈیکس میں
ہمارا فون نمبر درج نہیں ہوتا
کوئی بھی نئے سال کی ڈائری میں
ہمارے جنم دن کی تاریخ مارک نہیں کرتا
کوئی بھی ساحل کی ٹھنڈی ریٹ پہ
انگلیوں سے ہمارا نام لکھ کے
لہروں کا بھی قلم
رات گئے,دن ڈھلے,شام سمے
کتابوں میں یا رف کاپیوں میں
یا اخبار کے زرد کاغذوں پہ
ہمارے نام کے دائرے نہیں کاڑھتا

                                                

The Man With The Golden Heart

"The Man With The Golden Heart"
                    (24.5.84)
                   "ڈاکٹر صابر حسین خان "

                         (1)
رات کا سائیاں سر پر آیا
آو! میری یادو!
چلو چل کر کہیں اجالا کریں
عشق کا بے انت صحرا
کسی آبلہ پا کے انتظار میں
ریت کے آنسو رو رہا ہے
کیوں نہ ہم تم یک جان ہو کر
کسی کی محبتوں کا غم تازہ کریں
کسی کی زلفوں سے کھیلتی ہوئی
چاندنی سے باتیں کرنے کا دور نہیں رہا
                       ………………
وہ دور اب نہیں رہا
جب چاندنی زلفوں سے کھیلتی تھی
اور کسیکے شانے پہ
کسی کی پیشانی
محبتوں کی کہانی کہتی تھی
بیسویں صدی کے ان مشینی لمحوں میں
جب کسی کے چہرے پر
دوسری نگاہ ڈالنے کی بھی فرصت نہیں
ہم تم اگر ایک دوجے کی یاد میں
اپنے عشق کی ساری حراتیں
آنسوؤں کی شکل میں ڈھال کے
بے وفا کرنوں کے حضور لٹا دیں
تو خود ہی سوچو!کہ
اگلے دن کا زندہ سورج
                     ………………
                         (2)
کتنی ہی زندگیوں کیلئے
مرگ کا ساماں لے آئے گا
میری جاں! جو ہم نے ہوں نہ سوچا
تو جانے کتنی ہی
امنگوں سے بھرپور سانسیں
جو اپنے اپنے دائروں میں
ہمارے دم سے زندہ ہیں
ماہئ بے آب کی طرح
تڑپ تڑپ کے اپنی جاں دے دیں گی
اور جانے کتنی ہی خواہشوں سے چمکتی آنکھیں
جو اپنے اپنے حلقوں میں
ہماری آنکھوں سے دیکھتی ہیں
ایک لمحے کیلئے جھلملا کے بجھ جائیں گی
              ………………
جان  جاں! ایٹم کے اس سہنری دور میں
اپنی ذات کی بھول بھلیوں میں کھوئے ہوئے
غم جاناں کے خوابیدہ شہروں کے باسی
اپنے عہد کے ظالم و قاتل و مجرم ہیں
ہر دور میں انسان کو بیچا گیا ہے
اور آج بھی انساں بکتا ہے
مگر آج اسکی قیمت اتنی گر گئی ہے
کہ کل اتنی ہی قیمت میں
گندم کی پوری بوری آجاتی تھی
                 …………………
                        (3)
پھر ہم کیوں اپنے عشق کی داستانیں لکھیں
محرومیوں میں سلگتے ہوئے لوگوں کو
کیوں اپنے جلتے ہوئے دلوں سے زخمی کریں
اب جب کہ غم جاناں سے کہیں زیادہ
غم دوراں کا جادو سر چڑھ کے بول رہا ہے
آو! ہم تم بھی اس دنیا کے باسیوں کی تشنہ لب آرزووں,
بیگراں مجبوریوں اور
بے پناہ محرومیوں کی جو لانیاں
اپنے گیتوں میں ڈھال لیں
شیریں فرہاد کے قصے بھلا کر
ہجر کے غم دلوں میں دبا کر
اپنے قلم سے گرتے ہووں کو سنبھال لیں
                ………………
اور میری جاں! جو ہم نے یوں نہ کیا تو
وقت کے شیش ناگ کی پھنکارتی ہوئی زباں
ہمارے قلموں کو ڈس کے
انہیں ہماری گردنوں کے طوق بنادے گی
اور اپنے کڑوے کیلئے زہر کے سحر سے
ہماری سوچوں کی سونا اگلتی زمیں پہ
شب سیاہ کا گھنا آسماں بچھا دے گی

منگل، 15 جنوری، 2019

نرم گوشے

"نرم گوشے" ڈاکٹر صابر حسین خان

لکھے ہوئے کو بہت کم دوبارہ پڑھنے کا موقع ملتا ہے. بہت کم کسی سوچے سمجھنے منصوبے کے تحت لکھا.نہ ہی کبھی کوئی تحقیق یا تنقیدی مضمون لکھنے کی کوشش کی.کسی ایک حوالے سے جو خیال دل میں پیدا ہوا,اس پر لکھنا شروع کردیا.بہت بار ایسا ہوا کہ ایک خیال سے دوسرا اور دوسرے سے تیسرا خیال آتا گیا.اور مضمون کی مانیئت ازخود بدلتی چلی گئی.ایک موضوع سے دوسرا موضوع لفظوں کی شکل اختیار کرتا گیا.نیلے رنگ کی کہانی پیلے رنگ پر ختم ہوئی.کبھی کئی نشتوں میں تحریر مکمل ہوئی.کبھی وقت,خیال اور لفظوں نے ساتھ دیا تو دوچار گھنٹوں میں ہی معاملہ مک گیا.
یہ طے ہے کہ دل کے بدلتے موسموں کا رنگ ھر مضمون ھر تحریر کے ھر رنگ میں ضرور جھلکا.دل کی کہانیاں ہوں یا ذہنی موشگافیاں یا روحانی سفر کے اسرار جو بھی لکھا,دل سے لکھا,دل والوں کیلئے لکھا.اس لئیے لکھ کر دوبارہ پڑھنے یا کانٹ چھانٹ کرنے کی خواہش نہیں ہوئی.البتہ شائع ہونے کے بعد جب جب اپنی تحریریں دوبارہ شائع شدہ شکل میں پڑھیں تو دو باتیں شدت سے محسوس ہوئی.پہلی مشکل زبان اور اس سے بھی زیادہ مشکل بیان اور دوسری یہ کہ بہت کچھ لکھنے کے باوجود سب کچھ نہیں لکھا جاسکا.کچھ باقی دہ گیا.کچھ اور زاویوں سے بات ہوجاتی تو کچھ اور لوگوں کو سمجھ آجاتی کچھ اور نکات Highlight کردئےجاتے تو موضوع میں جان پڑ جاتی.
حقیقی زندگی میں تو فلاں کردار بڑا Jolly بڑا خوش رنگ ہے.اسے کاغذ پر لاتے لاتے اس کے رنگ کچھ ماند پڑ گئے.اس کی شخصیت کے کچھ پہلو اجاگر نہیں ہوسکے.اس کی زندگی کے کچھ اہم Milestones  تو ادھورے رہ گئے.مگر پھر خیال آتا ہے کہ حقیقی اور فرضی دنیامیں کچھ تو فرق ہوتا ہے. کچھ تو فرق ہونا چاہیے. فکشن میں جب تک تھوڑی Fabrication نہ ہو.تھوڑی Fantacy نہ ہو.تو مزہ بھی نہیں آتا اور قاری کو سنجیدہ وثقیل کردار ہضم بھی نہیں ہوتا.
قاری کو مشکل مان اور مشکل زبان بھی بہ مشکل ہی سمجھ آتی ہے.بہت سی کام کی باتیں, بہت سے لوگ نہیں سمجھ پاتے. بہت سی باتیں بہت سے لوگوں کیلئے ہوتی بھی نہیں. ھر فرد کی دلچسپی کا دائرہ مختلف ہوتا ہے.خصوصا آج کے عھد میں مصروفیات اور دلچسپیوں کی بہتات نے پڑھنے اور پڑھانے کا سلسلہ موقوف کردیا ہے. کیا مشکل کیا آسان کتاب ہو یا کوئی مضمون. کچھ پڑھنے کی ضرورت ہی کیا ہے. اور بات جب اب کے وقتوں میں محض فائدے اور نقصان کی ٹہری ہے.تو دل کی کہانیوں اور دل والوں کی باتوں کو تو پڑھنا وقت کا ضائع ہے.ہاں البتہ باتیں کچھ جوڑ توڑ کی ہوں یا مرچ مصالحوں کی. یا جلتی پر تیل پھینک کے تماشے دیکھنے یا پگڑیاں اچھالنے کی ہوں تو کیا بات ہے.
دل کی کہانیوں میں تو دل جلنے اور دل کڑھنے کے سوا رکھا کیا ہے. یہ دور تو سائنس کا ہے.تحقیق اور تردید کا دور ہے.عقل اور منطق کا دور ہے.گولڈاور ڈالرز کا دور ہے. جو بات ریسرچ سے ثابت نہیں, اسے کیسے مان لیا جائے. حد عقل میں دل کی دلیلوں کا کیاکام.جس کام کے دو پیسے نہ لیں,اس کو کیوں کیا جائے.جس بات سے کچھ حاصل نہ ہو,اس کا کیا فائدہ. علم بھی اتنا ہی اچھا جو چار روپے کمانے میں مدد دے.جو علم روح اور دل کے سفر پر اکسائے اس سے دوری اچھی یہ دور تو مادے کا دور ہے. دل کی باتیں کرنے والے,دل کی کہانیاں کہنے والے,دل سےسوچنے والے,دل پہ چلنےپہ اکسانے والے,سائنس,تحقیق اور مادے کے دور میں بھلا کیسے پنپ سکتے ہیں. زر کے شور میں من کی بات کیونکر سنی جا سکتی ہے.
من کی باتوں کا جب یہ حال ہو تو من چلے کا کیا حال ہوگا.من چلے کا سودا کون خریدے گا.ھر دور کے من چلوں اور دل کے درویشوں کا حال,بے حال ہی رہاہے.دل سے سوچنے والے,دل کی کہنے والے کچھ ایسے خواب دیکھ لیتے ہیں. جن کے طلبگار ڈھونڈنے سے نہیں ملتے. مگر یہ سودائی پھر بھی تمام عمر اپنے خوابوں میں رنگ بھرنے میں گزار دیتے ہیں. بنا مانگے اپنے خوابوں کو بانٹنے میں مصروف رہتے ہیں.
سرسیداحمدخان کے من چلے پن نے علی گڑھ یونیورسٹی کی بنیاد رکھی اور برصغیر کے مسلمانوں میں جدید تعلیم سکھنے کا جذبہ پیدا کیا.پھر من چلوں کی ایک کھیپ نکلی اور برصغیر کی آزادی کے راستے بننا شروع ہوئے.ڈاکٹر محمد اقبال اور بیرسٹر محمد علی جناح کے دلوں نے عقل اور منطق کی کوئی پرواہ نہ کی .اور اپنے دور کے سب سے بڑے اور اوکھے من چلے قرار پائے.اپنے اپنے دور میں ایسے اوکھے من چلوں کی کمی نہیں ہوتی.کچھ نیوٹن اور آئن اسٹائن بن جاتے ہیں. کبھی کچھ من چلے آبادیاں چھوڑ کر غاروں اور خانقا ہوں میں جاچھپتے ہیں.
کبھی اپنے دل کی پکار پر لبیک کہہ کر کوئی دوا ایجاد یا دریافت کرنے بیٹھ جاتے ہیں.
غرضیکہ اپنے اپنے دور میں ھر دل والے نے دل کی مان کر کسی نئے خیال کی بنیاد رکھی ہے یا کسی خیال کو پروان چڑھایا ہے جسے پہلے کوئی پوچھتا نہیں تھا.
دل کی دنیا کے اپنے قاعدے اپنے اصول اپنے اپنے ضابطے ہوتے ہیں. عام طور پر سودوزیاں سے عادی اور مروجہ سماجی تقاضوں اور حوالوں سے الگ کسی کا دل شاعری کے سمندر میں دوب جاتا ہے.کوئی دل والا موسیقی اور سروں کی اسرار ڈھونڈنے نکل جاتا ہے. تو کوئی تصویروں کو بنا بنا کر اپنا آپ ڈھونڈتا ہے.
من کی نگری کے باسی ذرا اوکھے ذرا اوکھری ہوتے ہیں. ان کے سروں پر سینگ نہیں ہوتے لکین ان کے دلوں کا اضطراب انہیں جاگتے میں خواب دیکھنے اور پھر ان خوابوں میں رنگ بھرنے پر مستقل اکساتا رہتا ہے. گرتے پڑتے من چلے,چلتے رہتے ہیں. ان کے خواب اور خوابوں کے رنگ دوسروں کی زندگی میں رنگ بھرتے رہتے ہیں اور یہ رنگ چراغ چلاتے رہتے ہیں.
ہماری زندگی کی رونقیں اور روشنیاں, آرام اور سکھ چین کے پیچھے ایسے ہی دل والوں اور من چلوں کی زندگی بھر کی محنت اور لگن اور ولولہ چھپا ہوا ہے.میں جو یہ تحریر آج لکھ رہا ہوں آپ سب کیلئے دل سے,تو دل کی بات کو لفظوں کی شکل میں ڈھالنایونہی خود بخود آپ ہی آپ نہیں آگیا.بچپن سے اب تک جانے کتنے دل والوں اور من چلوں کے دلوں کی کہانیاں پڑھنے,سننے,دیکھنے کے بعد جو دو چار باتیں دل میں بیٹھیں انہی کے سہارے قلم کا کاغذ سے رشتہ بندھا اور خوابوں کے رنگ آپ سب کے دلوں کیلئے خیالوں میں ڈھالنا شروع ہوئے.اس یقین کے ساتھ کہ کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی دل میں ایسے چراغ جلیں گے جن کی روشنی اور دور تک پہنچ سکے گی.اور کچھ اور لوگوں کی شخصیت اور نفسیات میں دل و روح کے ایسے نرم گوشے پیدا ہوں گے. جو کچھ اور لوگوں کے لئیے دل کے چین کا سبب بن سکیں گے.

پیر، 14 جنوری، 2019

ہر پل بدلتی زندگی

نئی"ھر پل بدلتی زندگی " ڈاکٹر صابر حسین خان

نیا رجسٹر ہے.پرانا ھراپار کا قلم ہے.آج صبح کیلکولیڑ لینے جس دکان پر گیا.وہاں یہ خوبصورت رف صفحات, کم قمیت,چھوٹے Size کے رجسٹر نظر آئے تو 6 عدد لے لئیے .دو کلینک میں رکھ دئیے تین اقرا کو دے دئیے.ایک پر اب رات لگ بھگ ڈیڑھ بجے لکھنے کے شوق میں لکھنا شروع کر دیا ہے.مضمون کی کیا صورت بنے گی.خیال کی رو کہاں سے کہاں جائے گی. نہیں پتہ.بس یہ ہے کہ جی اداس نہیں فی الوقت تو,توانائی کیسی مثبت زاویہ نگاہ کو ہی Highlight کرے گی انشاءاللہ .
دل تو چاہ رہا ہے کہ رات کے اس پہر جب نیند نےسب کو اپنی آغوش میں لے رکھا ہے, نیند بھگا دینے والی کہانی کوئی کہی جائے.دل کے تاروں کو چھوتی ہوئی انسان اور انسان کی محبتوں کی کہانی, رویوں, جذبوں, دکھوں,امیدوں اور خوابوں کی کہانی. تنہائی کی کہانی,تنہائی کی محفلوں کی کہانی.
ھر فرد کی زندگی اور زندگی کے حالات کی طرح اس کی کہانی بھی الگ ہوتی ہے.ھر فرد کیلئے اس کی کہانی دنیا کی تمام کہانیوں اور تمام  باتوں سے زیادہ رنگین وسنگین اور اہمیت کی حامل ہوتی ہے. زندگی کے ھر دور میں ھر فرد کی کہانی مدوجز,کا شکار ہوتی ہے.کچھ کردار In ہوتے ہیں. کچھ کردارخاموشی سے Out ہوجاتے ہیں. حاضر منظر  سے  نکل کر پس منظر میں چلے جاتے ہیں.
کچھ کرداروں کا Impact رہتی عمر تک رہتا ہے. کچھ مہمان اداکاروں کا Role ادا کر کے ہمیشہ کیلئے Fade out ہو جاتے ہیں. کبھی دوبارہ نہ ملنے نہ آنے کیلئے کچھ زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں.
کسی کو پتہ نہیں ہوتا کہ کب اس کی یکسانیت سے بھرپور کہانی میں Twist آجائے یا اچھل کود سے بھرپور زندگی سکوت و ٹہراو  کے سمندر میں اتر جائے .کبھی کبھی پوری زندگی, عمر قید میں گزرتے گزرتے خاتمے کی جانب ہوتی ہے تو اچانک کہیں سے کوئی اجنبی محبت بھرا دل آزادی کی کنجی تھامے نمودار ہوجاتا ہے. تو کبھی تمام عمر ,شوق آوارگی ٹوٹے پتوں کی طرح ادھر سے ادھر اڑاتا پھرتا ہے تو ایسے میں کوئی مہربان. کوئی ہمدم,زخموں سے چور بدن کو مرہم لگانے اور گھر گھر سستی کے سکون میں بند کرنے ہماری مدد کو چلا آتا ہے.
کچھ پتا نہیں چلتا.کب کیا ہوجائے. بس یونہی یکدم سے کچھ ہو جاتاہے.دیکھتےہی دیکھتے گہرے سرمئی بادل چاروں اور اندھیرا کرکے بارش برسانا شروع کر دیتے ہیں.دیکھتے ہی دیکھتے یکدم سورج,بادلوں کی آوٹ سے نکل کر اجالا کر ڈالتا ہے. کسی بات کا پتہ نہیں چلتا.
کس لمحے کیا ہوجائے. کیا سے کیا ہو جائے.Routine سے بھرپور زندگی کا اچانک Tempo ختم ہو جاتا ہے. کچھ نیا ہو جاتا ہے. ایسا کچھ ہوجاتا ہے جو سوچ میں بھی نہیں ہوتا. کبھی تو بجھا ہوا دل. نئی نمو نئی حرارت پاکر دوبارہ دھڑکنے لگتا ہے. تو کبھی ھنستا مسکراتا شاداب چہرہ,غم اور اداسی کی زرد چادر اوڈھ لیتا ہے.
کب اوپر سے کسی بات کا Order آجائے.اود وہ ہوجائے.کچھ پتہ نہیں چلتا. ہم تیار ہوں یا نہ ہوں. ہمیں امید ہو یا نہ ہو.ہمارے دل میں اس بات کی خواہش ہو یا نہ ہو.ہمارے چاہنے نہ چاہنے سے کچھ فرق نہیں پڑتا. یہاں تک کہ کسی خاص خیال کو لفظوں کی شکل دینے بیٹھا جاتاہے.لیکن تحریر کی تصویر جب پوری ہوتی ہے تو متن اور حوالوں سے لیکر مرکزی خیال تک سبھی کچھ بدل چکا ہوتا ہے.
گول گپے کھانےکی نیت سے باھر نکلتے ہیں. آئسکریم کھاکر واپس آجاتے ہیں. دل پر پھتر رکھ کر فیصلہ کر لیتے ہیں کہ اب کسی پر اعتبار نہیں کریں گے. مگر پھر کچھ عرصے بعد ہی کیسی معصوم صورت سے دھو کہ کھا بیٹھتے ہیں.ایسا کیوں ہوتا ہے?-کسی کو نہیں پتہ.لکین ایسا سب ہی کے ساتھ ہوتا ہے. کسی کسی کے ساتھ اکثر اور کسی کسی کے ساتھ کبھی کبھار. کبھی انتہائی معمولی,نہ محسوس ہونے والی,ان چاہی بات ہوجاتی ہے. اور کبھی انتہائی معمولی, نہ محسوس ہونے والی,ان چاہی بات کے اثرات تمام عمر ہماری گرہ سے بندھے رہتے ہیں.
بات کیسی بھی ہو.یہ بات طے ہے.زندگی بدلتی رہتی ہے.کبہی کسی بات کی وجہ سے کسی فرد کے آنے یا جانے کی وجہ سے کسی وقعے یاسانحے کی وجہ سے تبدیلی جاری رہتی ہے. کبھی بہت آھستگی سے غیر محسوس طرح سے اور کبھی اچانک,یکدم,آنافانا,بنا کسی دستک کے دھڑام دھڑوم کی آواز آتی ہے.اور ہمارے اندر اور باہر سب کچھ بدل جاتا ہے. ہماری مرضی کے خلاف .ہمارے خواب و خیال کے گمان سے بالکل ہٹ کر.
ہم چاہیں نہ چاہیں ہمیں تبدیلیاں برداشت کرنی پڑتی ہیں. ہم میں سے کچھ لوگ بہت Flexible ہوتے ہیں. لچکدار ہوتے ہیں. روزانہ بھی ان کو کسی تبدیلی کا سامنا کرنا پڑے تو بآسانی اسے قبول کرتے چلے جاتے ہیں. اس کے مطابق خود کو ڈھالتےچلے جاتے ہیں. لکین زیادہ تر لوگوں کیلئے کسی بھی تبدیلی کو دل سے قبول کرنا مشکل ہوتا ہے. وہ مجبورا خود کو بدلتے ہوئے حالات کے تحت Adopt کرنے کی کوشش تو کرتے ہیں. لیکن ان کے اندر ان کے وجود کا ایک اہم حصہ باقی ماندہ عمر کیلئے باغی ہوجاتا ہے. وہ کسی بھی نئی تبدیلی کے مطابق نہ تو ڈھل پاتا ہے اور نہ ہی برضا ڈھالنا چاہتا ہے.
اور یوں ایسے تمام لوگوں کے اندر ایک جنگ شروع ہو جاتی ہے. آہستہ آہستہ ان کی شخصیت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگتی ہے. سوچیں پراگندہ اور خیالات منتشر ہونے لگتے ہیں. انجانی اداسی کے سائے ان کی روح میں تاریکی پھیلانے لگتے ہیں. اور ایک وقت ایسا آتا ہے جب خلا کے مہیب سناٹے ان کے خون میں سرسرانے لگتے ہیں. یہاں سے واپسی کا سفر پھر ممکن نہیں رہتا .نہ ہمت بچتی ہے نہ خواہش Point of No Return پر پہنچ کر ایسے لوگ زندہ ہوتے ہوئے  بھی زندوں میں نہیں رہتے.نہ ٹلنے والی ناگزیر تبدیلیوں کو دل سے قبول نہ کرنے پر عام طور پر ایسا ہی ہوتا ہے.
مشکل ضرور پیش آتی ہے. زندگی کے کسی بھی نئے موڑ پر آنے کے بعد کسی بھی نئی تبدیلی کو گلے لگانا آسان نہیں ہوتا. بس بات ذہن کے دریچوں اور دل کے دروازوں کو کھلا رکھنے کی ہوتی ہے. نگاہوں اور سماعتوں کو بھی چوکنا رکھنا پڑتا ہے.پھر جو کچھ ہوتا ہے. ہمارے باہر اور ہمارے اندر جو بھی تبدیلی آتی ہے. جو کچھ بھی بدلتا ہے. وہ ازخود ہماری ذات کا حصہ بن جاتا ہے. لکین تبدیلیوں کے عمل میں, تبدیلیوں کو قبول یا رد کرنے کے عمل میں ایک نکتہ نہایت اہم ہوتا ہے. اور عام طور پر ہم اسی نکتے کو کوئی اہمیت نہیں دیتے.
تبدیلی دو طرح کی ہوتی ہے. ایک تبدیلی ہم خود لانے کی کوشش کرتے ہیں. اور دوسری طرح کی تبدیلی ازخود آتی ہے. ہمارے علم میں آئے بغیر ہمارے شعور کاحصہ بنے بغیر ہماری خواہش یا کوشش یا جستجو یا تگ ودو کے بغیر.
جو تبدیلی ہماری خواہش و کوشش سے آتی ہے. اسے برقرار رکھنے میں اچھا خاصا خون پسینہ بہانا پڑتا ہے. بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں. لکین جس تبدیلی کا ازن,قدرت کی طرف سے ہوتا ہے. جو انتہائی خاموشی سے اچانک ہماری زندگی کا حصہ بنتی ہے. اسمیں کسی خودرو اگنے والے جنگلی پودے کی طرح بڑی مضبوطی بڑی جان ہوتی ہے. اس میں پنپنے اور بڑھنے کی بڑی اہلیت ہوتی ہے. اس طرح کی تبدیلی میں عام طور پر قدرت کی کوئی مصلحت ہماری پوشیدہ ہوتی ہے. یہ مصلحت ہماری سمجھ میں آجائے تو زندگی بہت سھل ہو جاتی ہے. اور جو ہم اپنی کم علمی کم فہمی سے اس کو سمجھ نہ پائیں اور پھر بھی اسے قبول کرلیں .اپنا سر جھکا دیں.Surrender کردیں.تب بھی جلد یا بدیر یہ ہمارےلئیے کارآمد ہی ثابت ہوگی.بس بات اس کو قبول یا رد کرنے کی ہے.ماننے والے عافیت میں رہتے ہیں. ترک کر دینے والے پچھتاتےرہتے ہیں.