پیر، 4 فروری، 2019

دسمبر 86

"دسمبر 86"
                        (5.12.86)
               "ڈاکٹر صابر حسین خان"

پھر وہی دسمبر کی سرد رات ہے
گھڑی کی سوئیاں سوا دس بجا رہی ہیں
دل کے پاس ہلکا ہلکا درد سا ہو رہا ہے
افشاں لاج کی اوپری منزل پہ
ساٹھ واٹ کا بلب
سیمنٹ کی پختہ چھت پہ
زرد روشنی بکھیر رہا ہے
کہیں دور سے کسی بینڈ کی آواز آرہی ہے
سیاہ آسمان پہ سفید ستارے
دانہ دانہ ٹمٹما رہے ہیں
اور ایسے سمے
میں باہر کرسی پہ بیٹھ کر
قرتہ العین حیدر کو پڑھ رہا ہوں
تو کوئی بتائے کہ رگ رگ میں
پگھلتے ہوئے سیسے کی صورت
عذابوں کا دوشالہ اوڑھے
جو خواب اتر رہے ہیں
ان کا عکس کس آئینے پہ ہوگا
ان کی تصویر کون بنائے گا
ان کی تعبیر کون بتائے گا

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں