"For Your Eyes Only"
(4.12.86)
"ڈاکٹر صابر حسین خان"
میں جو ہر دم زندگی کو
اپنی انا کی عینک سے
دیکھ کر سوچتا رہتا ہوں
صرف تمہاری آنکھوں کے لیے
جاگتی آنکھوں سے کس طرح
دلربا خواب دیکھ سکتا ہوں
مہکتے ہوئے کاغذوں کے پیچ
صرف تمہاری آنکھوں کیلئے
کس طرح
دھنک رنگ لفظوں کے
خوش ادا گلاب رکھ سکتا ہوں
دوستوں کی رنگیں محفلوں میں
صرف تمہاری آنکھوں کے
کس طرح
خوش آ ہنگ نظموں کی
موج صبا کتاب پڑھ سکتا ہوں
میں تو ہر دم زندگی میں
اپنی ذات کے ساگر سے
آگہی کے سنہری عذاب کے
کنکر چنتارہتا ہوں
تو ایسا البتہ ہو سکتا ہے
کہ اگر تم ایسا چاہو تو
صرف تمہاری آنکھوں کیلئے
میں عذابوں کے جال بنتا رہوں
اور آہستہ آہستہ ان جالوں میں
تمھارے سارے خوابوں کو
اپنی سبھی کتابوں کے ساتھ
قطار در قطار رکھتا رہوں
آئینہ بہ آئینہ ٹوٹتا رہوں
ریزہ ڈر ریزہ بکھرتا رہوں
ذرہ نہ ذرہ چنتا رہوں
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں