"سوال"
(24.6.85)
"ڈاکٹر صابر حسین خان"
اب جنکہ میں اکثر سوچتا ہوں
(کیا تم نے بھی ذرا سی دیر کو اس وقت سوچا تھا)
کلاس کی ایک سو بیس لڑکیوں میں
تم ہی سے کیوں میں نے
گروپ بنانے کی درخواست کی تھی
میں سمجھتا تھا
(اب بھی یہی سمجھتا ہوں)
ہم دونوں اکثر باتوں میں
ایک ہی سوچ کی "ویو لینتھ" ہے
لکین پھر یہ کیوں ہوا
تم نے اپنی سوچ کی روایے
مادی دنیا کی سمت موڑ لیئے
اور میرے مسافر دل کو
ورد کی باہوں میں تھما دیا
اب زندگی کی شاہراہ پر
میرا تنہا مسافر دل
رات,چاند اور ہوا کے سنگ
تم سے پوچھنا چاہتا ہے
کہ تمھارے سچے چہرے پہ
مہکتی گہری سیاہ آنکھوں نے
جھوٹ بولنا کب سے سیکھا تھا
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں