"چاندنی"
(29.5.86)
"ڈاکٹر صابر حسین خان"
اس سے پہلے کہ سورج کی پہلی شعاع آکے
پچھلی شام سے سوئے ہوئے چاند کو اٹھائے
اور پرشکوہ رات اپنا ریشمی لبادہ لپیٹے
صبح کی وسعتوں میں اترنے کو قدم بڑھائے
آو! میری ہمدم و ہمراز و ہم نگاہ چاندنی!
اگلی شام تک کی دوریاں کاٹنے سے پہلے
ایک لمحے کے لیئے ہم تم گلے مل کے رولیں
پھر اک بار میں تم سے کسی کا حال پوچھوں
تم پھر مجھے سرگوشیوں میں یہ بتانا کہ
جس کے چہرے میں تمھارے لیئے آئینہ ہے
اس پہ ابھی تک کسی خواب کا سایہ ہے
میری ہمدم و ہمراز وہم نگاہ چاندنی!
نشتر آس کے دل میں کھب جانے سے پہلے
تمہاری ہر اک جاوداں و دل نشیں کرن مجھے
اس کے مہکتے ہوئے خدوخال کا پھر حال سنائے
کہ آنے والے دن کی جان لیوا ساعتوں کے لیئے
تسکین جان جاں کا کوئی ساماں پیدا تو ہو
اور ہر لحظہ کھلتے ہوئے درد کے گلابوں کیلئے
روح افزا خیالوں کی شبنم کہیں پائی تو جائے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں