"روشنی"
(11.9.87)
"ڈاکٹر صابر حسین خان"
وہ جو کبھی اس راہ پر چلے ہی نہیں
اور جو پہلے کبھی تو چند گام ہی چلے
وہ کیا جانیں کیسی ہوتی ہے
وہ خوشبو جو دل کے چلنے سے
پیدا ہوتی ہے
اور آنکھ کی روشنی بنکر دمکتی ہے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں