جمعہ، 1 فروری، 2019

دیمک

"دیمک"
                   (19.1.87)
                  "ڈاکٹر صابر حسین خان"

دل کے دیپک کے
یوں مستقل جلتے رہنے کا
کوئی بھی تو سبب نہیں
کہ اب تو کسی بھی اجنبی کے
قدموں کی آہٹیں
راتوں کے بیکراں سناٹے میں
بند دروازہ پہ
دستکیں نہیں دیتیں
لیکن یہ خوں ہے کہ مسلسل
دل وحشی کا الاؤ دہکا رہا ہے
اپنے ہی گھر کی دیواروں کو
اپنے ہی ہاتھوں آگ لگا رہا ہے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں