"باز گشت"
(15.9.87)
"ڈاکٹر صابر حسین خان"
جب سے اس کے خطہ و خال کا عکس
خیالوں میں بجھنے سا لگا ہے
کسی بات میں بھی
وہ پہلی سی بات نہیں ہے
وہی موسم ہے
وہی ہوا ہے, وہی رات ہے مگر
شوریدہ سری کو اب
کسی مقام کسی موڑ پر
کسی قسم کا ثبات نہیں ہے
دل پر درد کا ہاتھ نہیں ہے
خدا مہرباں ہے مگر
اب اتنا مہرباں بھی نہیں ہے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں