جمعرات، 14 فروری، 2019

ڈیڑھ متوالے

"ڈیڑھ متوالے"
                        (13.9.87)
                "ڈاکٹر صابر حسین خان"
ہم جو ایک دن
تجسس کے طلسم میں گرفتار ہو کر
آنکھیں بند کرکے
ان دیکھی دنیاؤں کے سفر پہ نکل گئے تھے
اور پھر ہر موڑ پر
ہر منظر حیرت سے تکا کرتے تھے
رفتہ رفتہ اپنے آپ کو بھولنے لگے
اور رنگ برنگے پھتروں کے بیچ
اپنی بینایئاں کھونےلگے
ہماری حیرت آنکھوں کی روشنی ساتھ لے کر
آہستہ آہستہ مٹی میں ملنے لگی
اور آج وقت ہمیں
ایسے موڑ پر لے آیا ہے
جب ہم دیکھتے ہیں کہ اب
ہماری ویران نظروں کے لیے
کوئی موڑ اور کوئی منظر
زندگی کا سامان نہیں بنتا
اور ہم رات کے بھکاری بن کر
ہاتھوں سے راستا ٹٹولتے ہوئے
کچھوے کی صورت رینگ رہے ہیں
سمتوں کا تعین مٹ چکا ہے
کچھ پتا نہیں چلتا کہ اب ہمارا رخ
آگے کی طرف ہے یا پیچھے کی طرف
لگتا ہے تجسس کا جادو چل گیا ہے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں