"سر آئینہ" (8.6.84) "ڈاکٹر صابر حسین خان"
سر آئینہ شام کی کیف آگیں شبنم قطرہ بہ قطرہ تنہائی کی کلیوں پہ برس رہی ہے اور پس آئینہ کائنات کا ہر اک منظر شعلہ بہ شعلہ اداسی کی خوشبو سے دہک رہا ہے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں