"تنہائی کے موسم میں"
(26.2.83)
"ڈاکٹر صابر حسین خان"
تنہائی کے موسم میں
جلتی بجھتی شمعوں کی
دیکھا دیکھی, میں نے بھی
گھل گھل کے جلنا سیکھا ہے
مر مر کے جینا سیکھا ہے
تھوڑی سردی دور تو ہوگی
یہ ہی سوچ کر میں نے بھی
تنہائی کے موسم میں
جل جل کے گھلنا سیکھا ہے
جی جی کر مرنا سیکھا ہے
کچھ سوچوں,پھر اسکے بعد
ان لمحوں کی تلخی پہ
تنہائی کے موسم میں
رو رو کے ہنسناسیکھا ہے
ہنس ہنس کے رونا سیکھا ہے
جلتے سورج کے نیچے
تپتی ریت پہ آبلہ پا
تنہائی کے موسم میں
کانٹوں پہ چلنا سیکھا ہے
بے گھر کے بسنا سیکھا ہے
اپنی آنکھوں کی آہٹ سے
دل کے بند دروازے کو
میں نے کھولنا چاہا تھا
اب دستک دینا سیکھا ہے
کیا درنے گھلنا سیکھا ہے
چلتے پھرتے لوگوں کی
جھوٹی سچی باتوں کو
سن سن کے خاموشی کے
امرت کو پینا سیکھا ہے
اور زندہ رہنا سیکھا ہے
جیون کے اندھیاروں کو
موت کی کرنیں دور کریں گی
جیون میں, مرنے سے میں نے
یوں الفت کرنا سیکھا ہے
دم موت کا بھرنا سیکھا ہے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں