"دھواں" (15.9.87) "ڈاکٹر صابر حسین خان"
سرد ہوا اور گرم دھواں دونوں مل کر مزاج کو دو آتشہ کر رہے ہیں وجود کی شراب چھلک رہی ہے اور کسی کے ہاتھ میں خالی جام نہیں
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں