اتوار، 3 فروری، 2019

آو چلتے ہیں

"آو چلتے ہیں"
                  (12.1.87)
                "ڈاکٹر صابر حسین خان"

او! سچ بولتے ہیں
اور ڈھونڈنے نکلتے ہیں
اس سچائی کو
جو محبتوں کے سفر میں
کہیں کھو گئی ہے
ان خوابوں کو
خو محبتوں کے ڈھیر میں
کہیں دب گئے ہیں
آو! سچ بولتے ہیں
کہ چلتے چلتے
ہمارے قدم تھک گئے ہیں
ہماری نظریں جھک گئی ہیں
آو! تلاش کرتے ہیں
خوابوں کی سچائی کو
جو محبتوں کے سحر میں
کہیں چھپ گئی ہے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں