"پل بھر کا سورج"
(11.12.86)
"ڈاکٹر صابر حسین خان"
وہ شخص جو رفتہ رفتہ
دھیرے دھیرے دل میں گھر کر رہا تھا
اس کی زباں سے اس رات میں نے
ایک ایسی بات سن لی کہ
وہ شخص تیز ہوا کے جھونکے میں
پل بھر کو بھڑک کر بجھ جانے والے
دیا سلائی کے سرخ شعلے کی طرح
یکبار گی نظروں میں چمکا اور
دل سے یوں اتر گیا جیسے
ہرے بھرے درختوں کے پتوں پہ سے
کئی برسوں کا جما ہوا گردو غبار
ذرا دیر کی موسلا دھار بارشوں میں
آن کی آن میں بہہ جاتا ہے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں