جمعہ، 15 فروری، 2019

میرے ہاتھ کی لکیریں خالی ہیں

"میرے ہاتھ کی لکیریں خالی ہیں"
                        (15.9.87)
                "ڈاکٹر صابر حسین خان"

کاغذ پہ قلم رکھ کر سوچتا ہوں
کیا لکھوں!
سب کو سب باتوں کا علم ہے
سب بڑی شد و مد سے
سب باتوں کی تجدید میں لگے ہوئے ہیں
سب لفظوں کی بارش میں بھیگ رہے ہیں
اور میرے پاس کسی کے لیے
کسی قسم کا سائباں نہیں ہے
اپنی کوئی زباں نہیں ہے
اور دل ہے کہ
سایوں کی انگلی پکڑنے سے کترا رہا ہے
کیا میں بھی کسی دن
سوچ کو بالائے طاق رکھ کر
سب باتیں لکھ سکوں گا
یا یونہی کاغذ پہ قلم رکھ کر
سوچتا رہوں گا

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں