"عید 86"
(24.6.86)
"ڈاکٹر صابر حسین خان"
ہم سب کے راستے الگ تھے
ہم سب کے سچ جدا تھے
پھر بھی وقت کی ایک موہوم سی لرزش نے
ہمارے سفروں کے بیچ
ایک مختصر سا قیام فراہم کردیا تھا
ٹہراؤ کے ایسے لمحے آتے رہنے چاہئیں
کہ مسلسل چلتے رہنے سے
سوچ کا عمل رک جاتا ہے
اور فکریں بانجھ ہونے لگتی ہیں.
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں