"ساتویں حس" "ڈاکٹر صابر حسین خان"
سارے موسم ایک جیسے نہیں ہوتے. ایک جیسے نہیں رہتے. بدلتے موسموں میں ہمارا من کا موسم بھی بدلتا رہتا ہے. کبھی روشن, کبھی تاریک,کبھی گرم, کبھی سرد.
موسم کا تغیر زمین, چاند اور سورج کے گھٹتے بڑھتے فاصلوں اور حرکت کے باعث رونما ہوتا ہے. اور سال کے مخصوص دنوں میں مخصوص ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں مخصوص موسم ہمارے آنگن میں اترتے ہیں.
لیکن دل کے موسموں کا رنگ تیکھا اور نیرالا ہوتا ہے. باہر کے بدلتے موسم اور حالات و واقعات تو اثر انداز ہوتے ہی ہیں. لیکن جب کبھی بنا کسی ظاہری وجہ کے دل کا موسم اتھل پتھل ہوتا ہے. تو اسے سمجھنے میں بڑی مشکل پیش آتی ہے. اور اسے سنبھلنے اور سنبھالنے میں بڑا وقت لگ جاتا ہے.
میرے, آپ کے, ہم سب کے دل کا یہی حال ہے. کبھی کھیلنے کو چاند مانگ بیٹھتا ہے. کبھی مٹی کے بت کی پوجا میں لگ جاتا ہے. کبھی رونق, بہار اور بارش سمے بھی اداس کے گلے لگ کے آنسو بہاتا ہے. کبھی شدید مایوسی اور تنہائی میں بھی قہقہے لگاتا پھرتا ہے. کبھی سب کچھ پاکر بھی مطمئن نہیں ہوتا. کبھی سب کچھ لٹا کر سکون کی بانسری بجاتا ہے.
ہم جلد یا بدیر عقل اور عقلی باتوں کو سمجھ سکتے ہیں. سمجھ لیتے ہیں. حکمت و فہم کے پوشیدہ نکتے کبھی نہ کبھی ہماری گرفت میں آجاتے ہیں. لیکن دل کی دلیلیں انوکھی ہوتی ہیں. اتنی عجیب کہ کبھی کبھی تو خود ہمیں اپنے ہی دل کی سمجھ نہیں آتی کہ وہ کیا چاہ رہا ہے. اور جو چاہ رہا ہے وہ کیوں چاہ رہا ہے.
ہم پھر الٹی سیدھی تا ویلات سے اپنے ذہن کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں. اپنے دل کی چاہ اور خواہش کے حق میں ایسی ایسی منطقیں پیش کرتے ہیں کہ جن کا نہ کوئی سر ہوتا ہے نہ پیر.
مگر اس کے باوجود ہم ان کے حضور سر جھکا کر کھڑے رہتے ہیں. آج تک کوئی سائنس, طب اور علم نفسیات کا کوئی کلیہ, دل کے دلائل کی بابت کوئی حتمی نظریہ سامنے نہیں لاسکا ہے. کہ انسان کا دل اس سے ایسے ایسے اچھوتے کام کیوں کروا ڈالتا ہے. جو عقل کے پیمانوں سے نہیں ناپے تو لے جاسکتے.
اور نہ ہی اب تک ایسی کوئی شے ایجاد ہو پائی ہے. جو ہمارے دل کے پل پل بدلتے رنگوں اور موسموں کی پیش گوئی کرسکے یا ہمارے احساسات اور جذبات کی سیاہ و سفید پرتوں کی پیمائش کرسکے اور ان میں آنے والی تبدیلیوں کا جائزہ لے سکے.
دنیا کے اندر اب جگہ جگہ نفسیاتی علوم کے ماہرین انسان کے I.Q. (Intelligence quotient) کے ساتھ ساتھ اس کے دل کی ذھانت جانچنے کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں. E.Q.(Emotional Quotient )
گزشتہ سوا سو برس میں انسان کی نفسیات اور شخصیت اور سوچ اور سوچنے کے انداز اور اس کے رویوں اور اس کے برتاؤ اور مختلف حالتوں میں اس کے مختلف افعال اور ان کے ردعمل… ہر طرح سے انسان کو سمجھنے, جاننے اور جانچنے کی کوشش کی گئی ہے. اور ان گنت ایسے سوال نامے اور ریسرچ ٹیسٹ ایجاد کر لیئے گئے ہیں یا بنا لئیے گئے ہیں. جو کچھ ہی دیر میں کسی بھی بچے, عورت, مرد کی ذہنی اور نفسیاتی اور شخصی ساخت کا جائزہ لیکر اس کے بارے میں بہت کچھ بتا دیتے ہیں کہ وہ انسان کب کیا سوچتا ہے. اس کو غصہ آنے کی کیا وجوہات ہوسکتی ہیں. اس کی پسند نا پسند. اس کے رویے.اس کے لاشعور میں چھپے تضادات اور ان سب نتائج کی بنیاد پر مستقبل میں اس کے افعال, اور ردعمل.
لیکن ابھی تک کوئی ایسا جامع سوالنامہ ترتیب نہیں دیا جا سکا جو کسی بھی انسان کے دل میں نقب لگا سکے. اور اس کے دل کے چور کو پکڑ سکے. اور اس کی قلبی کیفیات کی جانچ پڑتال میں مدد دے سکے.
ممکنہ اندازوں پر مبنی تو کئی نفسیاتی ٹیسٹ بنائے گئے ہیں.مگر وہ عام طور پر مفروفات کو مدنظر رکھتے ہوئے دلی و جذباتی حالات کی عکاسی کرتے ہیں. یا کرسکتے ہیں. نفسیاتی و شخصی ٹیسٹ کی طرح وثوق سے نہ تجزیہ کرسکتےہیں. نہ کوئی Fore Cast یا Predictions
در حقیقت دلوں کا حال یا تو اللہ تعالی جانتا ہے اور یا پھر اللہ والے, دل والے تھوڑا بہت اہل ہوتے ہیں. انسان کی اندرونی قلبی کیفیات کو جاننے اور جانچنے میں درحقیقت کوئی سائنس دان, ڈاکٹر, پروفیسر, ریسرچر یا ماھر نفسیات کبھی بھی انسان کے دل کے دروازے کھول کر اس کے اندر نہیں جھانک سکتا. اس کے دل کے حال کو نہیں جان سکتا. اس کے دل کے موسم کو نہیں محسوس کرسکتا. محض مفروضوں اور اندازوں پر اہل علم اپنے تجزیوں کی بنیاد رکھتے ہیں. رکھ سکتے ہیں. مگر ہمارے جذبات و احساسات کی صحیح جانچ کیلئے اعلی سے اعلی نفسیاتی تجزیہ جاتی سوالنامہ مدد نہیں کر سکتا.
طبی نکتہ نگاہ سے دیکھا جائے تو انسانی جسم میں دل کا کام محض گندے خون کو صاف کرنا اور صاف خون کو بدن کے تمام حصوں تک پہنچانا ہوتا ہے. لیکن مذہب, تصوف اور نفسیات کی رو سے دیکھیں تو دل, در حقیقت ہمارے ذہن کا وہ حصہ ہے جو کسی دلیل, وجہ یا منطق کے بنا ہمہ وقت فعال رہتا ہے اور ہمارے جذبات اور احساسات کو جنم دیتا, ختم کرتا,گھٹاتا, بڑھاتا رہتا ہے. علمی و نفسیاتی اصطلاح میں ہم ذہن کے اس حصے کو Emotional Mind کا نام دے سکتے ہیں.
'قلبی ذہن' اس سے بہرحال کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم سمجھنے اور سمجھانے کیلئے دل کو کیا نام دیں.بات تو اصل میں دل اور دل کی باتوں کو سمجھنے اور محسوس کرنے کی ہے. بات تو احساس کی ہے.بات تو اپنے دل کو زندہ اور تقویت فراہم کرنے کی ہے. بات تو احساس کو زندہ اور توانا رکھنے کی ہے.
ہم سب اپنے پانچ حواسوں سے بخوبی واقف بھی ہیں اور ان پانچوں سے اپنی زندگی کے بے شمار کام بھی انجام دے رہے ہوتے ہیں.چھونے کی حس, دیکھنے کی حس,سننے کی حس,سونگھنےکی حس,چکھنے کی حس. پھر ہمارے اندر ایک چھٹی حس بھی ہوتی ہے. جو بظاہر بدن کے کسی جزیا حصے سے پیوست نہیں ہوتی. لیکن اگر ہمارے اندر چھٹی حس چوکنا اور بیدار رہتی ہے تو ہم قبل ازوقت, مستقبل میں پیش آنے والے واقعات اور حالات سے بڑی حد تک باخبر ہوجاتے ہیں. اور ممکنہ حالات کے تحت اپنے اندر اور اپنی زندگی میں احتیاطیتی تدابیر بروئے کار لاکر بہتر تبدیلی کی کوشش کرتے ہیں.
دل اور دل کی باتوں کو سمجھنے اور جاننے اور جانچنے کا احساس, وہ ساتویں حس ہوتی ہے. جو پیدائش کے وقت تو فطرتا ہر بچے میں پائی جاتی ہے. مگر پھر ہم جوں جوں بڑے ہوتے ہیں اور ہمارے علم اور دائرہ معلومات میں اضافہ ہوتا جاتا ہے. ہمارے احساس کی یہ ساتویں حس بتدریج کم ہونے لگتی ہے. اور کبھی تو بالکل ختم ہوجاتی ہے.
کیونکہ ہماری ہر طرح کی تعلیم اور تربیت میں ہماری بنیادی پانچ اور حد سے حد چھٹی حس کو بڑھانے اور پروان چڑھانےاور برقرار رکھنے کے طور طریقے انداز بتائے, سکھائے اور سمجھائے جاتے ہیں.لیکن اپنے احساس کی حس کو کیسے برقرار رکھنا ہے. کیسے اس کی مقناطیسی قوت و جاذبیت میں اضافہ کرنا ہے. کیسے اس کو Groom اور Cultivate کرنا ہے. کیسے اس کی کانٹ چھانٹ کرتے رہنا ہے. کیسے اس کی نوک پلک کو مستقل سنوارنے رہنا ہے. یہ سب, علم کو, کوئی نہیں بتاتا. کوئی نہیں سکھاتا. نہ والدین, نہ اسائتذہ, نہ دوست,نہ رشتہ دار.
وقت کے ساتھ ہمارے احساس کی
ھری بھری بیل مرجھانے لگتی ہے. حالات و واقعات کی تلخیاں اور لوگوں کے رویے اور باتیں ہمارے احساس کی جڑوں میں بیٹھ کر اسے خشک اور کھو کھلا کرنے لگتی ہیں. آہستہ آہستہ ہم اپنے دل,اپنے احساس, اپنے دل کی باتوں اور دل کے رنگوں اور موسموں سے بے نیاز اور بے پرواہ ہونے لگتے ہیں. یہ پہلا درجہ ہوتا ہے. ایسے موقعے پر اگر دل کے موسموں کے مزاج کو سمجھنے اور سمجھانے والے نہ مل پائیں تو پھر احساس دم توڑنے لگتا ہے. اور دل, پھتر ہونے لگتا ہے. یہ دوسرا درجہ ہوتا ہے. اس لمحے بھی اگر محبت, رفاقت اور اللہ کی رحمت نہ برس پائے تو تیسرا درجہ زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے. پھر ہمیں کسی اور کا بھی احساس نہیں رہتا. پھر ہم کسی کے بھی دل کا موسم اور مزاج نہیں سمجھ پاتے. پھر ہم سنگدل ہونے لگتے ہیں.پھر ہمیں اپنے قریب ترین لوگوں کے احساس کا بھی پاس نہیں رہتا. پھر ہم نہ کسی کی خوشی میں خوش ہو پاتے ہیں. اور نہ کسی کے دکھ, درد اور غم کو محسوس کر پاتے ہیں. ہم اپنی غرض کے خول میں بند ہوجاتےہیں.
بے حسی اور خود غرضی کے مضبوط شیشے کے خول میں بند ہم پھر نہ موسم کے بدلتے رنگوں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں. نہ لوگوں کے دلوں کے موسم کو دیکھ پاتے ہیں. سمجھ پاتے ہیں. اور نہ فطرت کی روح ہم سے ہمکلام ہو پاتی ہے. اور نہ ہی ہمارا اپنا دل, تاذہ ہوا اور شفاف روشنی میں جگمگا پاتا ہے.
اور ایک وقت ایسا آتا ہے. جب ہمارا دل, ہمارے بدن کا حصہ ہونے کے باوجود, ہمارے وجود سے الگ ہو جاتا ہے. پتھر کا بن جاتا ہے. پھر کوئی بات, کوئی کلام, کوئی نظر, کوئی نظارہ, کچھ بھی اس پر اثر انداز نہیں ہوتا. اور ہم سب کچھ ہوتے ہوئے بھی سب کچھ کرتے ہوئے بھی, اندر سے خالی, کھو کھلے اور تنہا رہ جاتے ہیں.
دل اور دل کے موسموں کو تروتاذہ اور سرسبز و شاداب رکھنے کیلئے دلوں کی قدر کرنی پڑتی ہے. دل والوں کو دل میں رکھنا پڑتا ہے. دل والوں کے ساتھ رسم و راہ رکھنی پڑتی ہے. زندگی کی حرارتوں سے خود کو زندہ رکھنے کیلئے اپنا خون جلانا پڑتا ہے. اپنے دل کو زندہ اور توانا رکھنے کیلئے اوروں کا دل رکھنا پڑتا ہے.
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں