"اداس نسلیں"
(27.5.86)
"ڈاکٹر صابر حسین خان"
ہم جو خوابوں کی سنگلاخ چٹانوں پہ
جیالوں کے سیاہ گلاب سدا اگاتے رہے
مہردو نیم پتے,چراغ نیم شب ٹہرے
ہم جو آخر شب کے ہم سفر ہوئے
اور اندھیری رات کے تنہا مسافر ٹہرے
ہم جو ذاتوں کی بے آب اکائیوں میں
فکروں کے سنہری دریا بہاتے رہے
اپنے جسموں سے مقتل سجاتے رہے
اپنے ہاتھوں کے قلم کاتے رہے
اپنے ماتھوں پہ قمر بناتے رہے
اپنے ذہنوں کے علم اٹھاتے رہے
اپنے سینوں میں خنجر چبھاتے رہے
اپنے دلوں کو ہوا دکھاتے رہے
اپنی آنکھوں کے دمکتے دئیے لٹاتے رہے
ہم جو اپنے ہی غموں کی آگ میں
بجھتے رہے, پگھلتے رہے, جلتے رہے
ہمارے خوں سے زمیں سرخ ہوتی رہی
گھنے اندھیرے اجالوں میں ڈھلتے رہے
آسماں کے سارے سوراخ بھرتے رہے
ہم کہ ہر عہد کی اداس نسلیں رہے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں