"All Is Well When Ends Well"
(20.2.88)
"ڈاکٹر صابر حسین خان"
مجھ کو اپنے ان کاموں کے
پورا ہونے کا ڈر ہے
جو میں نے اس اس وقت کے لیے
ادھورے چھوڑ رکھتے ہیں
جب تم یہاں سے جا چکی ہوگی
اور مجھ کو اپنے
آدھے پن کو بہلانے کے لیے
ادھورے کاموں میں
دل لگانا پڑے گا
اور اس دل لگی کا بھی
اگر وہی انجام ہوا
جو ہم دونوں کے
انوکھے تعلق کا ہوا ہے
تو خود بتاؤ تمھارے بغیر
میرا کیا حال بنے گا
اس وقت تک تو
سارے کام پورے ہوچکے ہوں گے
اور تم اپنے نئے ماحول سے
ہم آہنگی پیدا کرچکی ہوگی
اور ایک مرتبہ
کوئی بھی کام
تکمیل کی حدوں کو چھولے
اور کوئی شخص بھی
کسی نئے ماحول میں گھل جائے
تو پھر آدمی
زندہ رہنے کے نئے بہانے
ڈھونڈ لیتا ہے
اور ماضی سے ناطہ توڑ کر
حال سے رشتہ جوڑ لیتا ہے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں