اتوار، 17 فروری، 2019

ستاروں سے آگے

"ستاروں سے آگے"
                     (22.2.88)
                  "ڈاکٹر صابر حسین خان"

محبت کی نم مٹی پر
دھیرے دھیرے قدم دھرتے
جذبوں کی پھوار میں
بھیگتے ہوئے
ہم دونوں اس موڑ تک
آپہنچے ہیں
جہاں ذرا سی دیر رک کر
ہم کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا
کہ دریا کے دو کناروں کی صورت
آپس میں کبھی نہ ملنے کے لیے
ہم یونہی ساتھ ساتھ چلتے رہیں
یا پھر دل پر ہاتھ رکھ کر
اپنے پرانے راستوں پر
الگ الگ پلٹ جائیں
اور ایک دوسرے کو پھر کبھی
مڑ کر نہ دیکھنے کی قسم کھالیں
گو واپسی کے اس سفر میں
ہمارے سروں پر
ہمارے محبتوں کا بوجھ بھی ہوگا
لیکن ہماری
اکھڑتی ہوئی سانسوں کو
اور ریزہ ریزہ خوابوں کو
اس طرح کم از کم
تشنہ لبی کی وہ اذیت تو
برداشت نہیں کرنے پڑے گی
جو دو متوازی خطوط پر
کبھی نہ ملنے کی یاس لیے
چلتے ہوئے مسافروں کو
لحظہ لحظہ سہنا پڑتی ہے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں