"گردش" (16.8.86) "ڈاکٹر صابر حسین خان"
رات کے آسماں کے دھیمے ستاروں کے نیچے مسافر وقت کی انہی بے جان گلیوں سے گزر رہا ہے جن میں صدیوں سے مسافر سے زیادہ آشفتہ سر اسی طرح چلتے رہے تھے,چلتے رہے ہیں
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں