منگل، 5 فروری، 2019

دل کا چور

"دل کا چور"
                       (14.8.86)
                 "ڈاکٹر صابر حسین خان"

جب کوئی کسی کی سوچوں میں
ننگے پاؤں نقب لگاتا ہے
اور دھیرے دھیرے دبے قدموں
خیالوں میں در آتا ہے
تو پھر ہر ایک محفل میں
جب ہر اک موضوع پہ
بات سے بات نکلتی ہو
اور ہر ایک نام کی خوشبو سے
کئی زبانیں مہکتی ہوں
ایسے میں اس بن بلائے
اجنبی مھمان کا نام
لرزتے لبوں پہ آنے سے
خود بخود کتراتا ہے
جس کے ہر اک حرف کی تسبیح
زندگی ہر لحظہ پڑھتی رہتی ہے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں