"چک پھیریاں"
(15.8.86)
"ڈاکٹر صابر حسین خان"
میں اپنے انجام کا آغاز کرچکا ہوں
وقت زندگی کی کتاب داغدار کیلئے دے ریا ہے
سادہ سرورق دھبوں سے سیاہ ہورہا ہے
سیاہ پس ورق پہ زمانے کی انگلیاں
برص کی طرح کے سفید نشاں ثبت کر رہی ہیں
حاشیوں میں حوالے لکھے جارہے ہیں
متن کیلئے کہیں کوئی جگہ باقی نہیں
اور عبادت کی تمنا میں
کورے کاغذ پھڑپھڑا رہے ہیں
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں