"دھوپ" (14.2.87) "ڈاکٹر صابر حسین خان"
چاند,ہوا اور دھواں ہوتی رات کہیں کوئی ہے جو ان لمحوں کے پاوں میں بیڑیاں ڈال دے جاتی ہوئی دھڑکنوں کو ذرا دیر کو تھام لے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں