"مجھ کو اتنا ساتھ بھی گوارا ہے"
(10.2.87)
"ڈاکٹر صابر حسین خان"
گو نا ممکن تو نہیں پر ایسا ہوتا
نا ممکن سا نظر آتا ہے
کہ میری ذات کبھی
تمھاری شناخت کا حوالہ بنے
اور میرا نام کبھی
تمھارے نام کے بعد لکھا جائے
یا کہیں آتے جاتے پکارا جائے
لیکن یہ جو ہم دونوں کے بیچ
عجب طرح کا ایک بے نام سا بندھن
موم کا پل بنا ہوا ہے
تو یہ پل یونہی اگر
ہم دونوں کے بیچ
فاصلے پاٹتا رہے
ان منٹ فاصلوں کی دھوپ میں
قطرہ قطرہ پگھل پگھل کر
بہتا رہے, گرتا رہے
اور ان منٹ جذبوں کی چھاؤں میں
ریزہ ریزہ ریشم ریشم پھر
بنتا رہے,جڑتا رہے
اور تمھاری نگاہ میں مجھے
یہ خواہش نظر آجائے کہ
کاش مسلسل ایسا ہوتا رہے
تو میری اس بات کا یقیں کر لینا
کہ آنے والے شب و روز کی
چڑھتی اترتی دھوپ چھاؤں میں
مجھ کو اس بات کا بھی بہت سہارا ہے
مجھ کو اتنا ساتھ بھی گوارا ہے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں