"جلتی بجھتی امید کا سایہ"
(3.1.83)
"ڈاکٹر صابر حسین خان"
دھوپ کتنی اچھی ہے
آنکھوں میں اتر آئی ہے
مہکتی میٹھی یادوں کو
اپنے ساتھ لے آئی ہے
گزرے برس کی ساری باتیں
آج پھر یاد آئی ہیں
سال کے آخری سورج کو
یادوں کے بادل گہنا گئے ہیں
مدہم مدہم روشن اجالے
سوچوں کی روشنی پھیلا گئے ہیں
گزرے سال کے ہنگاموں کو
کچھ باتوں اور کچھ یادوں کو
آپ کے حاصار میں قید کیئے
آخری سورج ڈوب رہا ہے
آخری سفر پہ رواں دواں ہے
ذیست کے نئے لمحوں کو
وقت کے نئے گلوں کو
کھٹی میٹھی یادوں اور
دل گرفتہ ہنگاموں کے
نئے پیراھن میں
لپیٹنے جارہا ہے
اداس, غمگین اور افسردہ
آتشی ماضی میں جلتا ہوا
مایوس, بےجان لیکن زندہ
ہاں مگر اسکی جلتی بجھتی کرنیں
پانیوں میں ڈوبتی ہوئی
آتش ماضی بجھا رہی ہیں
آنکھوں میں اترتی ہوئی
ایک صبح نو کے
مہکتے گیت گا رہی ہیں
نئے سال کے پہلے سورج کی
نکھرتی نوید سنا رہی ہیں
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں