"سفر"
(30.6.83)
"ڈاکٹر صابر حسین خان"
عنبرین بادلوں کے
نیلگوں دھوئیں کی
روپہلی اوٹ سے جھانکتے ہوئے
چاند کے چمکتے چہرے کی
جلتی بجھتی آنکھیں
کچے سرائے کے میلے آنگن میں
تھکن کی چادر اوڑھے
مسافر کے خوابوں سے
کن انکھیوں میں
صدیوں کی داستانیں
کہہ رہی ہیں
مسافر ابھی ابھی
تخیل کی شاداب وادیوں
کی سیر سے واپس ہوا ہے
لکین تخیل کی وادیوں سے
خوابوں کی گھاٹیوں تک کے سفر
کی اذیت کے جو کربناک لمحے
مسافر کی پیشانی کی لکیروں پہ
لکھے ہیں ان تک
چاند کے چمکتے چہرے کی
جلتی بجھتی آنکھوں کی کرنیں
پہنچے سے قاصر ہیں
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں