"ابکے برس"
(8.1.83)
"ڈاکٹر صابر حسین خان"
ابکے برس بھی
بارش نہ ہو شائد
زرد پتے سوکھے
ہی نہ رہ جائیں
نئی کونپلیں
کھل ہی نہ پائیں
آو! میری یادو!
کہیں زرد پتے
برستے نہ رہیں
نئی کونپلیں
کہیں خواب
دیکھتی نہ رہیں
آو انکے برس
مل کے برستے ہیں
میں,تم,دل
اور درد دل
زردپتوں اور
نئی کونپلوں کی
ڈھارس بندھاتے ہیں
آو بارش کا پہلا
چھینٹا بن کر
زرد پتوں پہ سے
مٹی بہاتے ہیں
نئی کونپلوں کو پھولوں میں بدلتے ہیں
کہ ابکے برس بھی
بارش نہ ہو شائد
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں