اتوار، 17 فروری، 2019

سوچ

"سوچ"
                          (1.4.88)
                    "ڈاکٹر صابر حسین خان"

تمھاری قربتوں کی چھاؤں میں کبھی
پریشاں دل نے بہت سکھ پایا تھا
تو پھر اب یہ کیسے ہوسکتا ہے
کہ دوریوں کی دھوپ میں میں
تمھاری یادوں سے,منہہ موڑ لوں
اور تم کو اپنے خیالوں کی
تپتی ہوئی زمیں پر چلتے ہوئے
لوگوں کے بیچ تنہا چھوڑ دوں
کہ آج بھی میری سوچ کا سرا
تمہاری سوچ سے بندھا ہوا ہے
اور تم اپنی سوچوں میں کبھی
اپنے آپ کو تنہا نہ پاؤگی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں