"ان کہی"
(30.12.83)
"ڈاکٹر صابر حسین خان"
تمھارے دل کے دروازے پر
میری نظروں نے چپکے سے جو دستک دی تھی
اسکا مفہوم تو تم نے بھی سمجھ لیا ہوگا
مگر یہ کیا کہ ابھی تک دروازہ بند ہے
جبکہ دستور چارہ گراں کے مطابق
دست صبا کی دھیمی سی دستک پہ
دھیرے سے سبھی دریچے کھل جاتے ہیں
اور منشور جھان دل تو یہ ہے کہ
دست صبا کی لانبی مہکتی انگلیوں میں دبی
ہر اک ان کہی صدا کے لمس سے
نزہت درد سے نکھرتی کلیاں
احمریں پنکھڑیوں کا گھونگھٹ اوڑھے
شبنمی کرنوں کے سائے تلے
سہمی سی آنکھیں کھولے کھل اٹھتی ہیں
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں