"پھر وہی آواز"
(25.3.84)
"ڈاکٹر صابر حسین خان"
ستاروں کی سیاہ
رات کے سیاہ سینے میں
فتح کا علم گاڑ چکی ہے
کرنوں کے قدم
قطار در قطار
ساحل کی ریت پہ
ادھورے نقش ابھار رہے ہیں
ایسے میں فقیر مسافر
تشنہ لب و آبلہ پا
اپنے ہاتھوں درد کا نشتہ
اپنے دل میں اتار رہا ہے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں