"سچا جھوٹ"
(25.6.86)
"ڈاکٹر صابر حسین خان"
مجھ کو اپنے شک پہ یقین ہے لکین
میں کیا کروں کہاں جاوں
چاروں اور الجھے راستے بکھرے ہیں
ہر سنگ میل پہ نت نئی فکروں کے
رنگ برنگے دیئے ٹمٹما رہے ہیں
کسی مقام کو ثبات نہیں
لگتا ہے سب فضول وبیکار ہے
خودشناسی کی تنگ وتاریک گلیوں میں
عصائے وقت ڈرا دھمکا کے بہلا پھسلا کے
بے معنی و بے وقعت چکر لگوارہا ہے
میرے جھوٹ میں کوئی کھوٹ نہیں
میرے جھوٹ میں سچ کا گماں بھی ہے
لکین پھر بھی یہ خوف مجھ کو
اندر ہی اندر دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے
کہ یہ بے نام و نشاں سفر کہیں
نا تمام نہ رہ جائے اور
سرے کو ڈھونڈتے ہوئے کہیں
لب بام سانسوں کے موٹی نہ بکھر جائیں
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں