"دست قضا"
(25.6.86)
"ڈاکٹر صابر حسین خان"
خدا خدا کرکے
تپتے ہوئے ریگزار زندگی میں
میری وحشتوں کو جو سائباں ملا تھا
وہ بھی پہلے کی طرح
شداد کی گم گشتہ جنت ہی نکلا
کہ جس میں قدم رکھنے سے پہلے
سانس شیشے کی طرح ٹوٹنے لگی
اور دم ریزہ ریزہ بکھرنے لگا
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں