اتوار، 17 فروری، 2019

دریا آنکھیں

"دریا آنکھیں"
                       (7.3.88)
                    "ڈاکٹر صابر حسین خان"

تمھارے چلے جانے سے
نہ یہ منظر بدلیں گے
نہ موسموں کے رنگ
البتہ اتنا ضرور ہوگا
کہ خزاں زدہ پتوں کی طرح
دل کا درد لرزنے لگے گا
پیش منظر میں ہر پل
اداسی کے سائے جھلملانے لگیں گے
پس منظر کا ہر چپہ
تمہاری یاد سے دہکنے لگے گا
اور نظر کے سامنے
جدائی کے لمحے
اور وصل کی ساعتیں
بوند بوند شبنم کی صورت
دھند کا ایک دریا سا
باندھنے لگیں گی بچھانے لگیں گی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں