پیر، 4 فروری، 2019

اچنبھا

"اچنبھا"
                 (19.10.86)
            "ڈاکٹر صابر حسین خان"

لوگ کس طرح
رات کے پہلے پہر ہی
تکیوں پر سر رکھ کے
سکون سے سو جاتے ہیں
جو لمحے
جاگ کر گزارنے ہوتے ہیں
لوگ کیونکر
ایسے وقت کو
گلے لگانے سے گھبراتے ہیں
جب کرچی کرچی روح کا عکس
رات کے خاموش آئینوں میں دمکتا ہے
اور ریزہ ریزہ دل کا دھواں
شبنم کی صورت پھولوں پر برستا ہے
تو یہ کیسے ہوجاتا ہے
کیوں ہو جاتا ہے
کہ لوگ دن بھر کی تھکن کا غلاف
آنکھوں پر چڑھا کے
اپنے سارے وجود کو
نیند کے طلسم کو سونپ دیتے ہیں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں