"عشق لاحاصل"
(8.11.86)
"ڈاکٹر صابر حسین خان"
اے وحشت دل!
تیرا کوئی علاج کہیں ہے کہ نہیں
ہم نے مانا کہ ہمارا دل
پہلے سے مسافر ہے
لیکن اب وحشی بھی ہوگیا ہے
جب کہیں رکتا ہے
تو کسی اجنبی کی طرح
کسی غیر مرئی نقطے کو
ٹکٹکی باندھ کے تکتا ہی رہتا ہے
اور جو بھولے سے کبھی قدم اٹھالے
تو طائیرلاہوتی کی طرح
کسی مقام پہ ٹہرتا ہی نہیں
پر یہ کوئی اچھی بات تو نہیں
کہ ہر سفر میں ہر چند قدم پہ
ایک سائباں ایسا ہوتا ہے
جہاں ذرا دیر کو رک کے
سانسیں سنبھالی جاتی ہیں
پھر اے وحشت دل!
تیرے پاوں کیوں کہیں تھمتے نہیں
تیری نظریں کیوں کہیں جمتی نہیں
پل دو پل کیلئے ہی سہی
تو اپنے مہرباں دل کی خاطر
کسی اور دل کو گھر کیوں نہیں کرتی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں