منگل، 12 فروری، 2019

عید

"عید"
                        (13.7.83)
                 "ڈاکٹر صابر حسین خان"

عجیب رنگ میں ابکے برس
عید آئی اور آکر چلی گئی
وہ پودے جو کبھی سر اٹھا کر
گھر آنگن کے قدآور
درختوں کے سائے تلے
تیزوتند آندھیوں کے
ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر
ایک سر سے دوسرے سرے تک
ایک دوسرے کے ساتھ
آنکھ مچولی کھیلتے ہوئے
گرمیوں کی تپتی شاموں کو
اپنی خوشبو کے جگنووں سے
مہکایا کرتے تھے
ابکی دفع وہ پودے سارے
خزاں کے چھانے سے پہلے ہی
اپنی مہک کھو چکے ہیں
ان کے سروں کے سائے
وقت کی بے رحم آری کی
زرد میں آکر
زمیں کو سجدہ کررہے ہیں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں