"اندر کا اجالا"
(8.8.83)
"ڈاکٹر صابر حسین خان"
اس کے سر پر
غلاظت کا ٹوکرا تھا
اس کی تیسری آنکھ
اپنے پیچھے دو
چبھتی ہوئی آوارہ
آنکھوں کو دیکھ رہی تھی
جو اسکے بدن کو
چھیدتی ہوئی ماحول
میں پراگندگی پھیلا رہی تھیں
اس نے اپنے دانت
بھینچے اور ساری غلاظت
کوڑا گھر میں پھینک کر
پیچھے کی طرف ایک نظر کی
پان کی دوکان پہ کھڑے
اجلے کپڑے پہنے ہوئے
مسجد کے موذن کو یوں لگا کہ
وہ سر تا پیر گندگی کے ڈھیر
میں دھنستا جا رہا ہے
محلے کی بھنگن کی آنکھوں
سے اندر کے اجالے کا چاند
پاکیزگی کی کرنوں کے جھرمٹ
میں طلوع ہورہا تھا
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں