ہفتہ، 9 فروری، 2019

ابابیل

"ابابیل"
                      (5.3.86)
               "ڈاکٹر صابر حسین خان"

                           (1)
میں  وہ پرندہ ہوں
جس کی چونچ میں
پانی کی ایک بوند ہے
اور زمیں پہ چاروں طرف
آتش نمرود دہک رہی ہے
میں روز آخر
ان لوگوں کی صف میں
کھڑا نہیں ہوسکتا
جن کی آنکھیں
بس تماشا دیکھتی ہیں
                            (2)
میں وہ پرندہ ہوں
جس کی چونچ میں
مٹی کا ایک کنکر ہے
اور زمیں پہ چاروں طرف
فیل ابرھد کے پھیلے ہوئے ہیں
میں روز آخر
ان لوگوں کی صف میں
کھڑا نہیں ہوسکتا
جن کے ماتھے
بس اپنے آپ کو سجدہ کرتے ہیں
                            (3)
میرے ذہن میں بس
سوچ کی ایک بوند ہے
اور میرے ہاتھ میں بس
قلم کا ایک کنکر ہے
لیکن مجھ میں
اتنی ہمت پھر بھی ہے
کہ میں اپنی آخری سانس تک
آتش نمرود بجھاتا رہوں گا
ابرھد کے ہاتھی بھگاتا رہوں گا
                             (4)
ہاں! مجھ میں تاب نہیں ہے
میں اس دن کی گرمی سے ڈرتا ہوں
جب سورج سر کے اوپر ہوگا
اور گردان جھکائے لوگوں کے
لبوں پہ کوئی جواب نہ ہوگا

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں