"لاحاصل"
(11.11.85)
"ڈاکٹر صابر حسین خان"
اس رواں دواں زندگی کے تانے بانے
لمحے در لمحے سے بنے ہوئے ہیں
مگر چلتے چلتے کبھی کبھی
خوشبو کے بے نشان جھونکے کی طرح
کوئی موڑ ایسا بھی آجاتا ہے
جب جانے کیوں
شدت گردش لہو سے اکتایا ہوا دل
سر اٹھانے پر کمر باندھ لیتا ہے
تب ذہن کے کیسی اجنبی گوشے میں
چپکے چپکے یہ خواہش گھر کر لیتی ہے
کہ سرکش وشھ زور وقت کی نامہرباں ساعتیں
آخیر کسی ایک مقام پر تھم کیوں نہیں جاتیں
سینے میں یہاں وہاں دوڑتی ہوئی
ورد کی خراماں حرارتیں
پل بھر کیلئے کہیں جم کیوں نہیں جاتیں
شب سیاہ کی چادریں چیرتا ہوا
شعاؤں کے جھرمت سے ابھرتا ہوا سورج
مشرق کے مسکن میں ذرا دیر اور ٹھر کیوں نہیں جاتا
لیکن
ایسا کبھی کیسے ہوسکتا ہے
مری جان! جب تک یہ دل دھڑکتا رہے گا
رگ رگ میں خوں یوں ہی تھرکتا رہے گا
نس نس میں درد یونہی سرکتا رہے گا
پل پل وقت کارتھ گزرتا رہے گا
ہر صبح سورج یونہی نکلتا رہے گا
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں