پیر، 4 فروری، 2019

رات کے بارہ بجے

"رات کے بارہ بجے"
                  (5.11.86)
               "ڈاکٹر صابر حسین خان"
میری آنکھیں بند ہیں
میرے لبوں پر سجا
گلاب مہک رہا ہے
میرے دائیں ہاتھ کی
انگلیوں میں
ڈئیر ہائی فلو کا
سیاہ رفل والا
بال پین دبا ہوا ہے
انیس سو پچاس کی
سبز جلد والی
حبیب بینک کی ڈائری
میری پھیلی ہوئی ٹانگوں پہ
چڑھی ہوئی
سیاہ کواڈرے کی پتلون پہ
رکھی ہوئی ہے
اور ڈائری کے اوپر
اشفاق احمد کی "سفر در سفر"
کھلی ہوئی ہے
ایسے میں کوئی مجھ بتائے کہ
میرے سفر کی منزل آخر
کہاں ہوگی کس جگہ ملے گی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں