ہفتہ، 16 فروری، 2019

شعاع نو

"شعاع نو"
                      (26.10.87)
               "ڈاکٹر صابر حسین خان"

اب جبکہ ہم دونوں کے بیچ
کوئی بات بھی ان کہی نہ رہی
خو بات پہلے کبھی
میرے تنہا دل میں تھی
اب تمھارے خانہ دل میں تھی
دھیرے دھیرے گھر کر رہی ہے
تو پھر ہم دونوں کے بیچ
یہ دوریاں یہ فاصلے کیوں رہیں
کیوں نہ ہم دونوں اب
ایک دوجے کا ہاتھ تھام کر
اپنے اپنے وجود کی آگ
ایک دوسرے سے بانٹ لیں
ساری دیواریں توڑ ڈالیں
اور خدا کے حضور سر جھکا کر
اپنی اپنی جانوں کے لیے
محبتوں کی شعاع نو کا
گراں قدر تحفہ مانگ کر
اپنی باقی ساری زندگی
ایک دوجے کے ساتھ گزار دیں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں