اتوار، 3 فروری، 2019

ہم کو عبث بدنام کیا

"ہم کو عبث بدنام کیا"
                     (11.12.86)
               "ڈاکٹر صابر حسین خان"

ہم لوگ جو لمحہ لمحہ
اپنی زندگی کے سانپ کو
قطرہ قطرہ
سوچ کا دودھ پلاتے ہیں
آخیر یہ کیوں نہیں سوچتے
کہ یہ جو ہم کچھ سوچے بغیر
تنکا تنکا
ڈالی ڈالی گھونسلہ بناتے ہیں
تو اس کا حاصل کیا ہے
کہ ہر مرتبہ دست قضا
نہ جانے کون سی مصلحت کے تحت
ہمارے چہروں پہ ایک اور شکن
اور ہمارے ہاتھوں میں ایک اور لکیر
خراماں خراماں کھینچ دیتی ہے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں