"سحر ہونے تک"
(24.2.83)
"ڈاکٹر صابر حسین خان"
سحر کا انتظار کرتے کرتے
ستارے سارے سو گئے ہیں
چاند کہیں کھو گیا ہے
اندھیرے آنکھیں دھوگئے ہیں
رت جگوں کی رتوں میں
ریت گھروں کے دروں سے
جھانک جھانک کے کاٹیں راتیں
ہر ہر پل کی دیکھی آہٹ
ہر ہر پل یہ گماں گزرا
صر صر ان کا پیماں لائی
آنکھوں ہی آنکھوں میں
جاگ جاگ کے کاٹیں راتیں
ان کی یاد سے دل تو بہلا
اٹھا جاگ, پر درد کا میلا
دیکھیں کب تک رہتا ہے
دل میں درد کا میلا یہ
کب تک ان آنکھوں میں
رہیں گی رت جگوں کی رتیں
کب تک ہر آہٹ پہ
یوں دل مچلا کرے گا
کہ اب تو یہ رات بیت چلی
یادوں کی بارات لے چلی
سوتے ہوئے ستاروں کو
اپنے ساتھ اندھیاروں کو
اس سحر کی اب امید ہے
نجم السحر جن کی نوید میں
ماضی کے کھوئے ہوئے چاند کو
مستقبل کے آفتاب کی
صورت میں ڈھالنےکے لیئے
پچھلے پہر ڈھونڈنے کے لیئے
اس چاند کو نکلا ہے
جو شان سے اترا ہے
غمگین دل کے آنگن میں
اپنے پورے جو بن میں
آخری لمحوں کو نور دینے
سانس کے فاصلوں کو دور کرنے
اب چند ساعتیں باقی ہیں
کچھ دیر میں کرنیں آتی ہیں
سورج کے طلوع ہونے میں
مشرق سے ابھر کے نکلنے میں
پل دو پل میں ایک اور پل
ان کی یاد سے بوجھل ہوگا
پل بھر میں پھر اوجھل ہوگا
اسکے اوجھل ہونے سے پہلے
اسکو کومل بنالیں ہم
اسمیں کیوں نہ لکھ ڈالیں
ایک صدی کے سارے غم
کوئی لمحہ تو وہ آئے گا
وہ پل جب انہیں ستائے گا
جو پڑھیں گے وہ میری کہانی
اپنی نادانی پہ ہوگی پشیمانی
اس پل انہیں ندامت ہوگی
عین اس پل نسیم سحر چلے گی
کہ رات تو بیت چکی ہوگی
ستارے رخصت ہوگئے ہوں گے
چاند کب کا ڈھلے چکا ہوگا
سحر کب کی ہوگئی ہوگی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں