"تم ایسی تو نہ تھیں"
(1.2.83)
"ڈاکٹر صابر حسین خان"
کل رات تم نے کہا تھا
آج صبح تم کالج آو گی
گو وعدہ تو نہیں کیا تھا
ہاں آنے کا یقیں دیا تھا
میں دل میں اس یقیں کولیئے
دن بھر تمہاری راہ دیکھتا رہا
ہاں!مگر گھر واپس ہوتے ہوئے
راہ چلتے ہوئے یہ سوچتا رہا
کہ تم ایسی تو نہ تھیں
شائد! تم مجبور ہوگئی ہوگی
کوئی بات آڑے آگئی ہوگی
پر دیکھو مجبور تو میں بھی تھا
دل کہتا تھا انتظار کرتے رہو
ٹھنڈی دھوپ میں بیٹھے تپتے رہو
دوسری طرف گھر کی چھاؤں
اپنی طرف مجھے بلاتی تھی
دیکھو! کہ چھاؤں جیت گئی ہے
اب میں گھر کو جاتے ہوئے
سوچتا ہوں, تم ایسی تو نہ تھیں
میرے دل کے گھر کی چھاؤں
فراق دید کی دھوپ میں
دن بھر یونہی سوکھتی رہی
تمھیں اپنے آپ میں چھپانے کو
ڈھونڈتی رہی تلاش کرتی رہی
دل کے گھر کی چھاؤں کا ہی
تم کچھ تو خیال کرلیتیں
ایک لمحے کےلیئے سہی
تم آجاتیں تم آجاتیں
ذرا سا یقیں تو رہ جاتا
میرا نہیں, تم اپنی ہی
بات کا بھرم تو رکھ لیتیں
کہ بعد میں گھر کو جاتے ہوئے
میں یہ نہ سوچتا کبھی
کہ تم ایسی تو نہ تھیں
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں