بدھ، 13 فروری، 2019

صلیب

"صلیب"
                      (8.2.83)
               "ڈاکٹر صابر حسین خان"

اپنی ذات کے
سنسان گوشوں میں چھپے
عمیق اندھیروں کی
میں اکثر
ویران گوشوں میں
بیٹھ کر
تلاش کیا کرتا ہوں
خود ہی پوچھتا ہوں
اور خود ہی
جواب دیا کرتا ہوں
سوال خواب کے
اس عمل سے
تلاش آگہی کے
جس کرب سے
میں بارہا گزرا ہوں
اس کرب سے جو مجھے
آگاہی ہوجائے
اس درد سے جو مجھے
شناسائی ہوجائے
تو پھر مجھے
اپنی ذات کے فریب سے
رہائی مل جائے
ہستی کی تلاش کا
آگہی کی پیاس کا
یہ سفر جاری ہے
اسے جاری رہنا ہے
یہ جاری رہے گا
منزل کے ملنے تک
جب روح کا نور
پھر ایک بار
اپنے منبع سے جا ملے گا
زیست کی بندش
جب ٹوٹ جائے گی
وہ وقت جو
سب پر آنا ہے
اپنے وقت پر
مجھ کو گلے لگا لے گا
ہاں! اس وقت کا
انتظار کرنا ہوگا
آگہی کے سفر پہ
چلتے رہنا ہوگا
یونہی چپکے چپکے
جلتے رہنا ہوگا

                           

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں